Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولUrduنمبر نہیں، سمجھ چاہیے — ہماری تعلیم کا المیہ

نمبر نہیں، سمجھ چاہیے — ہماری تعلیم کا المیہUrdu

hammadkhaksar
hammadkhaksar
اتوار، 18 اکتوبر، 2026
4 منٹ
0 ویوز

امتحان کے ہال میں سوال بدل کر دیکھ لیجیے، طالب علم گھبرا جاتا ہے۔ وہی بچہ جو پچھلے ہفتے دس صفحات کا جواب حفظ کر کے سنا رہا تھا، آج سادہ سے سوال کا مطلب نہیں سمجھ پا رہا۔ اس ایک منظر میں ہمارے تعلیمی ن

نمبر نہیں، سمجھ چاہیے — ہماری تعلیم کا المیہ
شیئر کریں:

ہمارے ہاں تعلیم ایک مقدس رٹّا بن چکی ہے۔ استاد لکھ کر دیتا ہے، بچہ حفظ کرتا ہے، ماں باپ دعائیں مانگتے ہیں، اور نمبر آ جائیں تو سب خوش۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ بچے نے سیکھا کیا؟ وہ نصاب کی زبان سمجھا بھی یا نہیں؟ گویا تعلیم کا مقصد ذہن کھولنا نہیں، محض نمبروں کا بینک اکاؤنٹ بھرنا رہ گیا ہے۔

یہ المیہ گھر سے شروع ہوتا ہے۔ والدین بچے کو اسکول بھیجتے ہیں، مگر اصل توجہ صرف رپورٹ کارڈ پر ہوتی ہے۔ پڑوس کے بچے سے موازنہ چلتا رہتا ہے: “فلاں کے بیٹے نے کتنے نمبر لیے؟” بچہ اگر سوال پوچھے تو اسے خاموش کرایا جاتا ہے — سوال کرنا وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔ یوں بچپن ہی میں تجسس دب جاتا ہے، اور تجسس کے بغیر سیکھنے کا سفر وہیں رک جاتا ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

اسکولوں میں صورتحال اس سے بھی دکھی ہے۔ امتحان کا سارا نظام حفظ کرنے کی مہارت کو انعام دیتا ہے۔ جو طالب علم نصاب کی کتاب کے الفاظ بعینہٖ لکھ دے، وہ اول آتا ہے۔ اور جو اپنے الفاظ میں بات کہے، اسے خطرے میں سمجھا جاتا ہے۔ استاد بھی مجبور ہے — اس کی کارکردگی کا پیمانہ اس کے طلبہ کے نمبر ہیں، نہ کہ ان کی سمجھ۔ اس لیے پڑھانے کا مطلب ہو گیا: اہم سوالات کے جوابات تیار کرا دیے۔

اس رٹّا کلچر کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یونیورسٹی پہنچ کر وہی طالب علم تنہا ہو جاتا ہے۔ وہاں کوئی نوٹس رٹا کر محنت نہیں کرا سکتا۔ تحقیق، تجزیہ، تنقید — یہ سب نئی دنیائیں ہیں جن کے لیے اسے تیار ہی نہیں کیا گیا۔ پھر نوکری کے انٹرویو میں جب عملی سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ رک جاتا ہے، کیونکہ کتابی جواب تو اسے یاد ہے، مگر سوچنے کی عادت نہیں۔

اور یہی رویہ ہمارے معاشرے کی بڑی کمزوری بن جاتا ہے۔ ایک ایسا شہری جو سوال نہ پوچھے، دلیل نہ مانگے، ثبوت کی پروا نہ کرے — وہ ہر طرح کے دھوکے کے لیے آسان شکار ہے۔ افواہیں، سازشی نظریات، جعلی خبریں — یہ سب اسی سوچنے نہ سیکھنے والی نسل میں سب سے تیزی سے پھیلتے ہیں۔ سمجھے بغیر ماننے کی عادت قوم کو کمزور کرتی ہے۔

لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ تبدیلی مشکل نہیں، بس ارادے کی بات ہے۔ اسکول میں نمبروں کے ساتھ ساتھ سوچنے کے عمل کو بھی انعام ملنا چاہیے۔ بچے کو اپنے الفاظ میں جواب لکھنے کی اجازت ہو۔ کلاس میں سوال پوچھنے والا سب سے قیمتی طالب علم ہو، نہ کہ سب سے شور مچانے والا۔ والدین رپورٹ کارڈ کے ساتھ یہ بھی پوچھیں: “آج تم نے کیا نیا سمجھا؟”

دنیا بدل رہی ہے۔ اب علم کی قیمت اس میں نہیں کہ آپ کو کیا یاد ہے، بلکہ اس میں ہے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں اور اسے نئی صورتحال میں کیسے استعمال کرتے ہیں۔ مشینیں یاد رکھنے کا کام ہم سے بہتر کر لیتی ہیں۔ انسان کا اصل کام سوچنا ہے۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کو سوچنا نہیں سکھایا تو ہم نے انہیں آنے والی دنیا کے لیے تیار ہی نہیں کیا۔

نمبر تو عارضی ہیں، سمجھ مستقل ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام سے یہ سوال پوچھیں: ہم بچوں کے دماغ بھر رہے ہیں یا ان کے ذہن کھول رہے ہیں؟ جواب اسی سوال میں چھپا ہے۔