وقت کی پابندی: وہ اخلاق جو ہم بھولتے جا رہے ہیںUrdu
دفتری میٹنگ گیارہ بجے کی ہے، لوگ ساڑھے بارہ بجے پہنچتے ہیں۔ شادی کا کارڈ چھ بجے کا لکھتا ہے، مہمان رات نو بجے آتے ہیں۔ ڈاکٹر نے دس بجے کا وقت دیا، مریض ڈیڑھ بجے پہنچتا ہے اور پھر شکایت کرتا ہے کہ ڈاکٹ

وقت کی پابندی صرف گھڑی کے کانٹوں کا معاملہ نہیں، یہ دوسرے انسان کے وقت کی عزت ہے۔ جب میں کسی سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں فلان وقت پر پہنچوں گا، تو میں دراصل یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کا وقت میرے لیے قیمتی ہے۔ اور جب میں بغیر کسی معقول وجہ کے تاخیر سے پہنچتا ہوں، تو میں عملاً یہ کہہ رہا ہوں کہ میرا وقت آپ کے وقت سے زیادہ اہم ہے۔ یہ رویہ تکبر کی ایک خاموش شکل ہے۔
ہمارے ہاں تاخیر کو اکثر اہمیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بڑے آدمی کا دیر سے آنا گویا اس کے مرتبے کا تقاضا ہے۔ سیاست دان جلسے میں گھنٹوں دیر سے آتا ہے اور ہم اس کا استقبال کرتے ہیں۔ یوں تاخیر ایک غیر لکھی ہوئی روایت بن گئی ہے، اور جو وقت پر پہنچتا ہے وہی عجیب لگتا ہے۔
لیکن اس رویے کی قیمت ہم سب ادا کرتے ہیں۔ دس افراد کی میٹنگ اگر آدھا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہو تو پانچ گھنٹے کا اجتماعی وقت ضائع ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کی کلینک میں تاخیر بیماروں اور بوڑھوں کا صبر آزماتی ہے۔ ٹرین یا بس کا دیر سے چلنا ہزاروں مسافروں کے منصوبے بگاڑ دیتا ہے۔ اور جو شخص بار بار دیر کرتا ہے، لوگ اس کے وعدے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی لوگ جو عام زندگی میں وقت کی پابندی کو مذاق سمجھتے ہیں، سفارت خانے یا ہوائی اڈے پر بالکل وقت پر پہنچتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ قابلیت کا نہیں، ترجیح کا ہے۔ ہم وقت کی پابندی کر سکتے ہیں، لیکن صرف وہاں جہاں ہمیں اس کا فوری فائدہ یا نقصان نظر آتا ہے۔ یعنی ہم وقت کو نہیں، طاقت کو سلام کرتے ہیں۔
اسلام میں بھی وقت کی بڑی اہمیت ہے۔ نمازیں مقررہ اوقات پر فرض ہیں، روزے کے سحری اور افطاری کے اوقات متعین ہیں، حج کے مناسک مقررہ دنوں میں ادا ہوتے ہیں۔ جو دین وقت کی اتنی پابندی سکھاتا ہے، اس کے پیروکاروں کا وقت کی بے پروائی کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ وقت کی پابندی دراصل امانت داری کی ایک شکل ہے۔
حل مشکل نہیں، بس ارادے کی ضرورت ہے۔ اپنے وعدے چھوٹے رکھیں اور انہیں نبھائیں۔ اگر میٹنگ گیارہ بجے کی ہے تو پونے گیارہ پہنچنے کی عادت بنائیں۔ اگر دیر ہونے کا امکان ہو تو پہلے سے اطلاع دیں؛ معافی مانگنا کمزوری نہیں، احترام ہے۔ والدین خود وقت پر پہنچ کر بچوں کے لیے عملی نمونہ بنیں، کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سیکھتے ہیں۔
وقت کی پابندی کوئی مغربی تہذیب کی ایجاد نہیں، یہ ایک آفاقی اخلاقی قدر ہے۔ جو قومیں وقت کی قدر کرتی ہیں، وہ ترقی کرتی ہیں، اور جو اسے ضائع کرتی ہیں، وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم دوسروں کے وقت کی اتنی ہی عزت کریں گے جتنی اپنے وقت کی کرتے ہیں۔ شاید یہ چھوٹی سی تبدیلی ہماری بڑی بڑی شکایتوں کا حل بن جائے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
