العلمین سربراہی اجلاس: مصر، سوڈان، اریٹیریا اور صومالیہ کا مشترکہ اعلامیہWorld
چاروں ممالک نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے انکار اور دریائے نیل پر یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے بحیرہ احمر کی حکمرانی ساحلی ممالک کے سپرد کرنے پر اتفاق کیا۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی میزبانی میں 4 اکتوبر کو نیو العلمین شہر میں مصر، سوڈان، اریٹیریا اور صومالیہ کے رہنماؤں کا چار ملکی مشاورتی سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس کے اختتام پر العلمین مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
اجلاس میں اریٹیریا کے صدر اسیاس افورقی، صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود اور سوڈان کی عبوری خودمختاری کونسل کے چیئرمین جنرل عبدالفتاح البرہان نے شرکت کی۔ چاروں رہنماؤں نے ہارن آف افریقہ اور بحیرہ احمر کی سلامتی پر متفقہ پالیسی قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے مکمل احترام کی توثیق کی گئی۔ رہنماؤں نے صومالی لینڈ کو کسی بھی قسم کی تسلیم یا حمایت دینے کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے صومالیہ کی علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور صومالیہ میں افریقی یونین سپورٹ اینڈ اسٹیبلائزیشن مشن کے لیے قابلِ پیشگوئی فنڈنگ کا مطالبہ کیا۔
<h2>سوڈان، بحیرہ احمر اور دریائے نیل</h2> سوڈان کے حوالے سے اعلامیے میں ملک کی وحدت، خودمختاری اور ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا، متوازی اداروں کے قیام کو مسترد کیا گیا اور کرائے کے جنگجوؤں کی حمایت کی مذمت کی گئی۔ رہنماؤں نے سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل کی بحالی پر زور دیا۔
بحیرہ احمر کے بارے میں چاروں ممالک نے نیویگیشن کی آزادی کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ کی حکمرانی ساحلی ممالک کی خصوصی ذمہ داری ہے۔ دریائے نیل کے حوالے سے بین الاقوامی قانون، “نقصان نہ پہنچانے” کے اصول، پیشگی اطلاع اور اتفاقِ رائے پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا اور زیریں کنارے والے ممالک کو متاثر کرنے والے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کیا گیا — یہ موقف ایتھوپیا کے عظیم ایتھوپیائی رینیسانس ڈیم پر جاری تنازعے کی طرف واضح اشارہ ہے۔
رہنماؤں نے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا۔ اس سے قبل اتوار کو ہی صدر السیسی اور جنرل البرہان کے درمیان دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں مصر نے سوڈان کے ریاستی اداروں اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایتھوپیا کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے — گزشتہ ہفتے مصر اور ایتھوپیا نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو ملک بدر کیا تھا، جبکہ اریٹیریا نے ایتھوپیا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
