
ٹرمپ نے جے کلیٹن کو اے آئی زار مقرر کر دیا، سپر انٹیلیجنس فورس قائمTechnology
نئی سپر انٹیلیجنس فورس کو 120 دن میں اے آئی کے خطرات و مواقع اور وفاقی حکومت کے کردار پر رپورٹ پیش کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس جے کلیٹن کو انتظامیہ کا اے آئی زار مقرر کرتے ہوئے نئی “سپر انٹیلیجنس فورس” قائم کر دی ہے، جسے 120 دن میں مصنوعی ذہانت کے خطرات اور مواقع پر رپورٹ پیش کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ یہ فورس وفاقی حکومت کی کوششوں کو مربوط کرے گی تاکہ “امریکہ سپر انٹیلیجنس میں دنیا کی قیادت جاری رکھے” اور “تمام امریکیوں کے مفادات کا تحفظ اور زندگیاں بہتر بنائی جائیں۔”
یہ اعلان وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی توثیق کرتا ہے جس میں کلیٹن — جنہیں اگست میں انٹیلیجنس چیف مقرر کیا گیا تھا — نے بتایا تھا کہ ٹرمپ نے انہیں اے آئی کے میدان میں امریکہ کو سب سے آگے رکھنے کی مہم کی قیادت سونپی ہے۔ کلیٹن نے اخبار کو بتایا: “پہلے نمبر پر نہ ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔”
<h2>ٹاسک فورس کا دائرہ کار</h2> رپورٹس کے مطابق ٹاسک فورس کے وائس چیئرمینوں میں فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے چیئرمین اینڈریو فرگوسن، انڈر سیکرٹری آف وار برائے ریسرچ اینڈ انجینئرنگ ایمل مائیکل اور آفس آف پرسنل مینجمنٹ کے ڈائریکٹر اسکاٹ کپور شامل ہوں گے۔
ٹاسک فورس اے آئی کمپنیوں، صارفین، مذہبی گروپوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گی، اور وفاقی حکومت کے کردار کے بارے میں سفارشات پیش کرے گی۔ اس کے چارٹر کے مطابق یہ “ایس آئی سے پیدا ہونے والے خطرات کا جواب دینے کے منصوبے” تیار کرے گی، جبکہ ایسی حد سے زیادہ ریگولیشن کو روکے گی جو جدت اور مسابقت کو دبائے۔
یہ دوسری بار ہے کہ ٹرمپ نے اے آئی سے متعلق فیصلوں کی نگرانی کے لیے کوئی مشیر مقرر کیا ہے — ان کی دوسری مدت کے آغاز میں وینچر کیپٹلسٹ ڈیوڈ سیکس یہ کردار ادا کر چکے ہیں۔
ٹرمپ مصنوعی ذہانت کا نام بدل کر “سپر انٹیلیجنس” رکھنے کی مہم چلا رہے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے ہیں۔ وہ اے آئی پر ہلکی ریگولیشن کے حامی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ سخت نگرانی چین کے مقابلے میں امریکی کمپنیوں کو کمزور کرے گی۔
متعلقہ خبریں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
