Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
اشتہار / ADVERTISEMENT
970 × 90 Leaderboard (اشتہار)
صفحہ اولBusinessایس ای سی پی نے بگاسرا سیکیورٹیز کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا

ایس ای سی پی نے بگاسرا سیکیورٹیز کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیاBusiness

hammadkhaksar
hammadkhaksar
پیر، 5 اکتوبر، 2026
3 منٹ
0 ویوز

بگاسرا سیکیورٹیز کے خلاف کارروائی اب ایف آئی اے کے سپرد؛ کلائنٹس کے حصص میں مبینہ بے ضابطگیوں پر فوجداری تحقیقات ہوں گی۔

ایس ای سی پی نے بگاسرا سیکیورٹیز کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا
شیئر کریں:

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے بگاسرا سیکیورٹیز کا معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوانے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ ریفرل کلائنٹس کے حصص میں مبینہ غیر مجاز لین دین پر قانونی کارروائی کے لیے کیا گیا ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق سرمایہ کاروں کے 48.93 ملین روپے کے واجبات تاحال واجب الادا ہیں۔

اشتہار / ADVERTISEMENT
728 × 90 In-Content Banner

بروکریج ہاؤسز میں کلائنٹس کے اثاثوں کا تحفظ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بنیاد ہے۔ ریگولیٹر کا مؤقف ہے کہ کلائنٹس کے حصص میں ان کی اجازت کے بغیر لین دین سنگین خلاف ورزی ہے جس پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

ایف آئی اے کو معاملہ بھجوانے کا مطلب ہے کہ اب اس کیس کی فوجداری پہلوؤں سے بھی تحقیقات ہوگی۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ذمہ داران کو قانون کے تحت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے مارکیٹ میں احتساب کا پیغام جاتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ متاثرہ سرمایہ کاروں کو ان کی رقم کی جلد واپسی یقینی بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق بروکریج انڈسٹری میں شفافیت بڑھانے کے لیے حالیہ برسوں میں متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں کلائنٹس کے اثاثوں کی علیحدہ نگرانی اور باقاعدہ آڈٹ شامل ہیں۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ان ضوابط کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقات میں اگر غیر مجاز لین دین ثابت ہوا تو یہ کیس سرمایہ کاروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔ متاثرہ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دعوؤں اور لین دین کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بروکریج فرموں کے لیے کلائنٹس کے فنڈز اور سیکیورٹیز کو اپنے اثاثوں سے الگ رکھنا لازم ہے۔ اس اصول کی خلاف ورزی کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے، اور ریگولیٹر اسے اولین ترجیح پر لیتا ہے۔

ایس ای سی پی نے واضح کیا ہے کہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے نگرانی کا عمل جاری رہے گا اور خلاف ورزیوں پر بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں