
بنوں میں صحت ملازمین کا احتجاج، 18 ماہ کی تنخواہیں دوHealth
شمالی وزیرستان کے 538 صحت ملازمین کی 18 ماہ کی تنخواہیں بند؛ ویریفکیشن میں کلیئر ہونے کے باوجود ادائیگی نہ ہوئی، بنوں میں پریس کانفرنس ہوئی۔

بنوں: شمالی وزیرستان کے محکمہ صحت کے درجنوں ملازمین نے بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام سے اپنی 18 ماہ کی واجب الادا تنخواہوں کی فوری ادائیگی اور اپنے متعلقہ اسپتالوں میں ڈیوٹی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ملازمین کے مطابق تنخواہوں کی بندش کے باعث انہیں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں ملک فاروق خان داؤڑ، نذر حسین، اکبر خان اور عنایت اللہ شامل تھے۔ ملازمین نے صوبائی حکومت اور متعلقہ محکمہ صحت کے حکام سے اپیل کی کہ ان کی تنخواہیں فوری طور پر جاری کی جائیں اور انہیں ان کے اسپتالوں میں ڈیوٹی پر بحال کیا جائے۔
<h2>“گھوسٹ” ملازمین کا الزام</h2> ملازمین کے مطابق ان کی تنخواہیں اس وقت روکی گئیں جب انہیں “گھوسٹ” ملازمین قرار دے کر ریکارڈ میں بیرون ملک مقیم ظاہر کیا گیا۔ ملازمین کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے فرائض پر موجود تھے اور فزیکل ویریفکیشن کے ذریعے انہوں نے اپنی موجودگی ثابت بھی کی ہے، تاہم اس کے باوجود ان کی تنخواہیں بحال نہیں کی گئیں۔
ملازمین کے مطابق پشاور کے سیکرٹری صحت نے فزیکل ویریفکیشن کے بعد تمام 538 ملازمین کو کلیئر کر دیا تھا، مگر کلیئرنس کے باوجود نہ تو ان کی تنخواہیں بحال ہوئیں اور نہ ہی انہیں ڈیوٹی پر بحال کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انصاف کے لیے بار بار متعلقہ حکام سے رجوع کیا اور ہر ہدایت پر عمل کیا، لیکن مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 538 ملازمین کو “گھوسٹ” ورکرز قرار دیا گیا یا ریکارڈ میں بیرون ملک مقیم ظاہر کیا گیا، جس سے ان کی ملازمت کی حیثیت بری طرح متاثر ہوئی اور وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
<h2>شدید مالی مشکلات</h2> ملازمین نے بتایا کہ ڈیڑھ سال سے تنخواہ نہ ملنے کے باعث وہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور اپنے گھروں کے اخراجات پورے کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق تنخواہوں کی بندش نے نہ صرف ان کی اپنی زندگی بلکہ ان کے بچوں کی تعلیم اور خاندان کی کفالت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
قبائلی اضلاع میں محکمہ صحت کا عملہ بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملازمین کے مطابق ڈیوٹی سے طویل محرومی اور تنخواہوں کی بندش کا اثر مقامی صحت کے نظام پر بھی پڑ رہا ہے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر ملازمین نے ایک بار پھر حکومت سے تنخواہوں کی فوری ادائیگی اور ڈیوٹی کی بحالی کا مطالبہ دہرایا۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں


