
رخشان کمشنر کا اغوا: خاران کے قریب مسلح افراد نے گاڑی روک لیپاکستان
رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے نوشکی خاران شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔

رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمشنر اپنے ڈرائیور کے ساتھ نجی گاڑی میں کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے جب نوشکی خاران شاہراہ پر برشونکی کے علاقے میں مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک لی۔
خاران پولیس کے مطابق اغوا کار ابتدائی طور پر کمشنر، ان کے ڈرائیور اور گاڑی کو ساتھ لے گئے، تاہم بعد میں ڈرائیور کو رہا کر دیا گیا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ رہائی کے بعد ڈرائیور کے خاران پہنچنے پر ہی حکام کو کمشنر کے اغوا کی اطلاع ملی۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ تقریباً اسی علاقے میں پیش آیا جہاں گزشتہ ماہ خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر سومرو بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر تھے۔ یہ ایک ماہ کے اندر ایک ہی علاقے میں اعلیٰ سول انتظامی افسر کے اغوا کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
واقعے کے بعد خاران اور آس پاس کے علاقوں میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی جبکہ پولیس اور متعلقہ ادارے کمشنر کی بازیابی کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔ ابھی تک کسی گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور صوبائی حکومت کی جانب سے بھی کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا۔
بلوچستان میں گزشتہ کئی ماہ سے امن و امان کی صورتحال دباؤ کا شکار ہے اور سول انتظامیہ کے افسران کو مختلف واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک ہی علاقے میں بار بار ایسے واقعات سول انتظامیہ اور سیکیورٹی کے مربوط کردار کو درپیش چیلنجز کو ظاہر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ کمشنر رخشان ڈویژن بلوچستان کی بڑی سول انتظامی پوسٹ ہے اور کمشنر کے دفتر سے ضلعی انتظامیہ کی نگرانی اور حکومتی پالیسیوں کے نفاذ کا کام لیا جاتا ہے۔ ایک ہی علاقے میں کم مدت میں دوسرے اعلیٰ افسر کے اغوا نے ضلعی انتظامیہ کے معمول کے کام کو بھی متاثر کیا ہے۔
حکام کے مطابق اغوا کاروں کی گرفتاری اور کمشنر کی بازیابی کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور نوشکی خاران شاہراہ پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مشکوک نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
علاقے کے عوامی حلقوں اور تاجر برادری نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کمشنر کی جلد بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور نوشکی خاران شاہراہ سمیت صوبے بھر میں مسافروں اور سول افسران کی حفاظت کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں


