Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولHealthبلوچستان کے 23 پولیو نمونے منفی قرار

بلوچستان کے 23 پولیو نمونے منفی قرارHealth

hammadkhaksar
hammadkhaksar
جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
3 منٹ
0 ویوز

بلوچستان سے لیے گئے پولیو کے 23 نمونے منفی قرار دیے گئے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت نے انسدادِ پولیو اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بلوچستان کے 23 پولیو نمونے منفی قرار
شیئر کریں:

بلوچستان سے لیے گئے پولیو کے 23 نمونوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں، جو صوبے میں انسدادِ پولیو کی کوششوں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں ویکسینیشن کی مہمات نتائج دے رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ انسدادِ پولیو کے اقدامات کو مزید مضبوط کیا جائے اور کسی بھی ممکنہ رسک کے خلاف نگرانی برقرار رکھی جائے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

حکام نے والدین سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ ہر قومی مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کی تجویز کردہ خوراکیں ضرور پلوائیں، کیونکہ بچوں کا مسلسل تحفظ ہی اس مرض کے خاتمے کی ضمانت ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برادریوں اور صحت کے کارکنوں کے تعاون کے بغیر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔

<h2>ملک بھر میں صورتحال</h2> بلوچستان کی یہ مثبت خبر ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک بھر میں پولیو کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں کے نکاسی آب سے جمع کیے گئے 40 نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وائرس ماحول میں اب بھی موجود ہے اور مستقل چوکنا رہنا ناگزیر ہے۔

امسال 2026 میں ملک میں پولیو کے چھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے پانچ خیبر پختونخوا سے سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن متاثرہ بچوں کی ہر نئی رپورٹ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ویکسینیشن میں کوئی کمی برداشت نہیں کی جا سکتی۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو ایک سنگین بچپن کی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں، لیکن ویکسین سے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔ بچوں کو ہر مہم میں قطرے پلوانے کے ساتھ ساتھ معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہ صحت اور دیگر شراکت دار تنظیمیں پولیو کے خاتمے کے قومی پروگرام میں شامل ہیں۔ اس سال ملک بھر میں کئی بڑی قومی مہمات کے ذریعے کروڑوں بچوں کو پولیو ویکسین دی جا چکی ہے، اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں اضافی مہمات کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں نمونوں کا منفی آنا اس امر کا ثبوت ہے کہ مسلسل محنت اور عوامی تعاون سے پولیو فری پاکستان کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کامیابی کے لمحوں میں بھی نگرانی اور ویکسینیشن کے سلسلے میں نرمی نہیں آنی چاہیے، ورنہ وائرس دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

پارکنسن کے علاج میں نئی دوا: چوہوں میں علامات بہتر ہوئیں
Health•03:52 AM

پارکنسن کے علاج میں نئی دوا: چوہوں میں علامات بہتر ہوئیں

براڈ انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے دواؤں کے امتزاج سے خلیات تک آکسیجن کی ترسیل کم کر کے پارکنسن کے چوہوں کے ماڈل میں حرکت کی علامات میں بہتری دیکھی ہے۔ یہ تحقیق Proceedings of the National Academy of Sciences میں شائع ہوئی ہے۔

تحریر: hammadkhaksar