
حوثیوں کا ریاض اور خریص میں آرامکو تنصیبات پر حملوں کا دعویٰInternational
حوثیوں نے ریاض اور خریص میں آرامکو تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور خریص کے علاقے میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ حملے ان کے بقول یمن پر گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران سعودی قیادت میں کیے گئے 50 فضائی اور میزائل حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ حملوں سے بڑی آگ لگی۔
سعودی عرب کی جانب سے ان دعوؤں کی فوری طور پر کوئی تصدیق یا جواب سامنے نہیں آیا۔
<h2>تیل کی قیمتوں میں اضافہ</h2> حملوں کے دعوؤں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 81 سینٹ اضافے کے ساتھ 103.06 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 91.57 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے صدر راشد العلیمی نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ علاقائی اور مغربی حکام کے مطابق سعودی عرب فضائی کارروائیوں کی قیادت کرے گا جبکہ یمنی افواج زمین پر لڑیں گی۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی اور بحری راستوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور سعودی علاقوں اور بحری جہازوں پر حملے شروع کیے تھے۔ یمن کی سرکاری افواج کے ترجمان نے بتایا کہ ان کی افواج دارالحکومت صنعاء اور حوثیوں کے گڑھ صعدہ میں اہم اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی نے صنعاء پر سعودی عرب کے حملے کی خبر دی تھی تاہم اس کی بھی سعودی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں لڑائی 2022 کی جنگ بندی کے بعد بڑی حد تک رکی ہوئی تھی تاہم رواں سال ایران اور امریکہ کے درمیان وسیع تر جنگ کے اثرات کے طور پر دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کا جنوبی راستہ ہے جو بحیرہ روم اور ایشیا کے درمیان اہم بحری گزرگاہ ہے اور اس سال آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
متعلقہ خبریں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
