نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے نومبر کے مہینے کے لیے موسم کا جائزہ جاری کرتے ہوئے شمالی علاقوں میں برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق شمال میں معمول سے زیادہ بارش متوقع ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بارش کی صورتحال مختلف رہے گی۔
جائزے کے مطابق پنجاب، سندھ، بلوچستان اور شمالی خیبر پختونخوا میں بارش معمول کے مطابق یا معمول کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ اس کے برعکس جنوبی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں معمول سے کچھ زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ شمالی علاقوں میں برفباری کے امکان کا مطلب یہ ہے کہ سردیوں کا موسم اب باقاعدہ طور پر شروع ہو رہا ہے۔
این ڈی ایم اے نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے پہلے ضروری انتظامات مکمل کر لیں۔ سرد علاقوں کا سفر کرنے والوں کے لیے گرم کپڑوں، گاڑی کی تیاری اور موسم کی تازہ صورتحال سے باخبر رہنا خاص طور پر اہم ہوتا ہے، کیونکہ پہاڑی راستوں پر موسم اچانک تبدیل ہو سکتا ہے۔
انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشینری اور عملہ تیار رکھے تاکہ برفباری یا بارش کے باعث راستے بند ہونے یا دیگر مشکلات کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ پہاڑی علاقوں میں برف ہٹانے اور راستے بحال کرنے کے لیے پہلے سے تیاری نہ ہو تو مقامی آبادی اور مسافروں دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ہفتہ وار جائزے میں بھی نومبر کے آغاز میں شمالی پہاڑی علاقوں میں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جس میں گلگت بلتستان، چترال، دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کے علاقے شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمال میں سردی کی لہر آہستہ آہستہ زور پکڑ رہی ہے۔
نومبر کا مہینہ عام طور پر پاکستان میں موسم کی تبدیلی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، جب میدانی علاقوں میں دن نسبتا خوشگوار رہتے ہیں اور شمال میں سردی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے سیاحوں اور مقامی انتظامیہ دونوں کے لیے موسم کی پیشگوئیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ این ڈی ایم اے کا جائزہ ایک موسمی رجحان ہے، نہ کہ کسی ایک دن کی حتمی پیشگوئی، اس لیے سفر سے پہلے تازہ ترین موسمی صورتحال ضرور معلوم کرنی چاہیے۔








