لاہور کی مجموعی فضائی آلودگی خطرناک حد سے تجاوز کر گئی ہے اور شہر کا ائیر کوالٹی انڈیکس 400 سے اوپر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق ایک بین الاقوامی ماحولیاتی نگرانی کی ویب سائٹ کے اعداد و شمار میں لاہور کے کئی علاقوں میں آلودگی کی سطح انتہائی بلند دیکھی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے علاقے پیراگون میں ائیر کوالٹی انڈیکس 728 ریکارڈ کیا گیا، جب کہ علامہ اقبال ٹاؤن میں 615 اور ماڈل ٹاؤن میں 435 ریکارڈ ہوا۔ یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر کے مختلف حصوں میں ہوا کا معیار ایک جیسا نہیں، لیکن مجموعی صورتحال صحت کے لیے خطرناک ہے۔
اسی نگرانی کے مطابق اس روز پاکستان کا سب سے آلودہ شہر ملتان رہا، جہاں ائیر کوالٹی انڈیکس 566 ریکارڈ کیا گیا۔ فیصل آباد میں 455 اور رحیم یار خان میں 483 ریکارڈ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سموگ کا مسئلہ صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے کئی شہروں میں پھیلا ہوا ہے۔
لاہور اس روز بھی دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں شامل رہا۔ سردیوں کے آغاز کے ساتھ پنجاب میں سموگ کا مسئلہ ہر سال شدت اختیار کرتا ہے، اور اس بار بھی صورتحال اسی رخ پر جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ دھند اور آلودگی کے امتزاج سے حد نگاہ کم ہو جاتی ہے، جس سے ٹریفک اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس قسم کی آلودہ ہوا صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد، بچے اور بزرگ خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، تاکہ شہری خود کو آلودہ ہوا کے مضر اثرات سے بچا سکیں۔
سموگ کی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا، صنعتی اخراج اور تعمیراتی گرد شامل سمجھی جاتی ہیں۔ سرد موسم میں ہوا کی حرکت کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے آلودہ ذرات فضا میں زیادہ دیر تک رہتے ہیں اور زمین کے قریب جمع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صبح اور شام کے اوقات میں صورتحال زیادہ خراب محسوس ہوتی ہے۔
حکومت پنجاب ماضی میں سموگ سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کرتی رہی ہے، جن میں فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی، گاڑیوں کی جانچ اور اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی شامل رہی ہے۔ تاہم اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسئلہ اب بھی برقرار ہے اور اس کے لیے مستقل اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
شہریوں کے لیے اس صورتحال میں احتیاط ہی سب سے بڑا تحفظ ہے۔ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز، ماسک کا استعمال اور گھروں میں ہوا کو صاف رکھنے جیسے اقدامات آلودگی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں موسم اور ہوا کی سمت یہ طے کرے گی کہ سموگ میں کمی آتی ہے یا شدت برقرار رہتی ہے۔








