
نوری میں بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار کا انعقادHealth
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ نوری نے بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار منعقد کیا، جس میں ماہرین نے جلد تشخیص اور بروقت علاج کی اہمیت پر زور دیا۔

اسلام آباد: نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اور ریڈیوتھراپی انسٹی ٹیوٹ (نوری) نے بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں جلد تشخیص، بروقت علاج اور جامع طبی نگہداشت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ سیمینار کا موضوع “Every Story is Unique, Every Journey Matters” تھا۔
سیمینار میں ڈاکٹروں، کینسر سے صحت یاب ہونے والی خواتین اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی بیگم ڈاکٹر راجہ علی رضا انور تھیں، جنہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے کینسر اسپتالوں کے نیٹ ورک میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی خدمات کو سراہا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ایک قریبی دوست کو چھ سال قبل کینسر کے چوتھے مرحلے کی تشخیص ہوئی تھی، جس کا علاج نوری میں ہوا اور وہ اب صحت مند زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے مریضوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے اسپتال کے کردار کی تعریف کی۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نیوکلیئر میڈیسن اور آنکولوجی ڈاکٹر شبانہ سعید نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بریسٹ کینسر کے بارے میں خاموشی توڑی جائے اور اس مرض پر کھل کر بات کی جائے۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ آگاہی کا یہ پیغام اپنے خاندانوں اور برادری کی خواتین تک پہنچائیں تاکہ جلد تشخیص اور بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
<h2>پاکستان میں بریسٹ کینسر کا بوجھ</h2> تقریب کے آغاز میں ڈائریکٹر اے ای سی ایچ نوری ڈاکٹر حمیرہ محمود نے پاکستان میں بریسٹ کینسر کے بوجھ پر روشنی ڈالی اور خواتین سے کہا کہ وہ طبی مشورے میں دیر نہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے کینسر اسپتالوں کا نیٹ ورک، جس میں 21 اسپتال شامل ہیں، ملک بھر میں کینسر کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو تشخیص اور علاج کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نوری کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے “Rays of Hope” منصوبے کے تحت Anchor Centre کا درجہ بھی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کی خدمات کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور نوری میں 2025 کے دوران تقریباً 11 ہزار نئے مریض رجسٹر ہوئے، جبکہ 2007 میں یہ تعداد تقریباً تین ہزار تھی۔
ڈاکٹر حمیرہ محمود نے اسپتال کی جدید علاج کی سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں تھری ڈائمینشنل کنفارمل ریڈیوتھراپی، انٹینسٹی ماڈولیٹڈ ریڈیوتھراپی، ایم آر گائیڈڈ ہائبرڈ بریکی تھراپی اور سائبر نائف ٹیکنالوجی دستیاب ہے۔ نوری میں چار سمیولیٹرز اور تین لینئیر ایکسیلیٹرز بھی نصب ہیں، جبکہ 2022 سے کام کرنے والی سائبر نائف سہولت نے جدید تابکاری علاج کی رسائی کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
سیمینار میں بریسٹ کینسر سے آگاہی، جلد تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی پر ماہرین کے مباحثے ہوئے۔ بچوں کے کینسر سے صحت یاب ہونے والوں کے اعزاز میں ایک سیشن بھی ہوا، اور میڈیکل طلبہ نے یہ پیغام دیا کہ جلد تشخیص کی صورت میں بریسٹ کینسر قابلِ علاج ہے۔ تقریب میں آگاہی ویڈیو، پوسٹر مقابلہ اور آگاہی واک بھی شامل تھی۔
منتظمین کے مطابق یہ سیمینار پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی کینسر سے آگاہی، جلد تشخیص کی ترغیب اور ملک بھر میں قابلِ رسائی تشخیصی و علاجی خدمات فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ تھا۔
متعلقہ خبریں


ڈبلیو ایچ او: بچوں اور نوعمر افراد میں موٹاپے کی شرح 1990 کے بعد چار گنا بڑھ گئی
تحریر: hammadkhaksar
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
