
جموں کشمیر: زرعی زمین پر تعمیرات، ماہرین کی سخت وارننگکشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی سے منظور نئے 'ایز آف ڈوئنگ بزنس' بل کے تحت زرعی زمین پر کمرشل تعمیرات کی اجازت مل گئی؛ ماہرین نے زلزلے کے خطرات پر سخت وارننگ دی ہے۔

سری نگر: جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سے منظور ہونے والے ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس بل 2026ء’ کے تحت اب زرعی اور باغبانی کی زمین پر تعمیرات کی اجازت مل گئی ہے، جبکہ رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔ نئے قانون پر شہری منصوبہ سازوں اور سول سوسائٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے زلزلے کے شکار خطے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
یہ بل 28 ستمبر کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی کے خزاں اجلاس میں پیش کیا تھا، اور بعد ازاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس کی منظوری دے دی۔ کشمیر لائف کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے خزاں اجلاس میں منظور شدہ چھ بلوں کی منظوری دی ہے، جن میں ایز آف ڈوئنگ بزنس بل بھی شامل ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ نیا قانون اجازت پر مبنی نظام کی جگہ قواعد پر مبنی نظام لائے گا، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کو فروغ ملے گا۔
نئے قانون کے تحت صرف ریڈ اور اورنج کیٹیگری کی صنعتیں زرعی زمین پر قائم نہیں کی جا سکیں گی، جبکہ دیگر خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیوں کی اجازت ہو گی۔ قانون 24 میٹر (تقریباً آٹھ منزلہ) تک رہائشی عمارتوں اور 5,000 مربع میٹر تعمیر شدہ رقبے کی اجازت دیتا ہے، جس کے لیے صرف منظور شدہ مشیر کی تصدیق درکار ہو گی۔ اسی نوعیت کے کمرشل مالز بھی بغیر سرکاری منظوری تعمیر کیے جا سکیں گے، تاہم کولڈ اسٹوریج، نائٹ کلب اور شراب کی دکانیں مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔
سابق چیف ٹاؤن پلانر اور ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے ماہر افتخار احمد حکیم نے خبردار کیا ہے کہ ماسٹر پلان کو نظر انداز کر کے تعمیرات کی اجازت دینا عوامی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کے مطابق وادی کشمیر کے بڑے حصے زلزلے کے انتہائی خطرناک زون فائیو میں آتے ہیں، اور 2026ء میں سری نگر کے 87 وارڈز کے مٹی کے تجزیے سے دریائے جہلم کے کنارے زمین کے مائع ہونے (لیکویفیکشن) کا شدید خطرہ سامنے آیا ہے۔
سول سوسائٹی کے گروپ ‘گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز’ کے سربراہ اور سابق آئی اے ایس افسر خورشید گنائی نے 9 اکتوبر کو خبردار کیا تھا کہ نئے قواعد رہائشی علاقوں میں کنکریٹ کا جنگل کھڑا کر دیں گے۔ انوائرنمنٹل پالیسی گروپ کے کنوینر فیاض بخشی نے قانون کی دفعہ 22 کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیزاسٹر کے خطرات کی جانچ کے بغیر تعمیرات آسان بنانے سے آبادیوں کا خطرہ بڑھے گا۔
سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے 11 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر اس قانون کو ‘ہماری زمین سے خطرناک غداری’ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی کے نام پر کشمیر کے باغات اور زرعی زمین کو کمرشل بلند عمارتوں کے لیے کھولا جا رہا ہے، حالانکہ ماہرین زلزلے کے تباہ کن خطرات سے خبردار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کاروباری برادری اور تاجروں نے نئے قواعد کا خیرمقدم کیا ہے۔
زراعت جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے؛ تقریباً 70 فیصد آبادی اس پر انحصار کرتی ہے، قابل کاشت رقبہ 10.97 لاکھ ہیکٹر ہے، جبکہ باغبانی کا شعبہ 3.47 لاکھ ہیکٹر پر محیط ہے اور سات لاکھ سے زائد خاندانوں کی روزی کا ذریعہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زراعت یونین ٹیریٹری کی مجموعی ملکی پیداوار میں تقریباً 10 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں

