پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھنے لگےPakistan
اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کے ساتھ میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز کا پہلا مسودہ شیئر کر دیا ہے، جس کے بعد جائزہ مذاکرات اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھ گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن تقریباً آئندہ ہفتے کے وسط تک اسلام آباد میں رہے گا۔ اگر دونوں فریق [...]

آئی ایم ایف کا جائزہ مشن تقریباً آئندہ ہفتے کے وسط تک اسلام آباد میں رہے گا۔ اگر دونوں فریق مسودے پر متفق ہو جاتے ہیں تو معاہدہ ہو سکتا ہے، بصورت دیگر باقی معاملات پر ورچوئل بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔
بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ اہم مسئلہ رہا۔ جون 2026 کے اختتام تک اس کا حجم 1.675 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ حکومت نے مالی سال 27 کے لیے بجلی کے شعبے میں 830 ارب روپے سبسڈی مختص کی ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے 200 یونٹ تک بجلی پر کراس سبسڈی ختم کر کے جنوری 2027 سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہدفی معاونت کی تجویز دی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا سالانہ ٹیکس ہدف 15.264 ٹریلین روپے برقرار ہے، کیونکہ پہلی سہ ماہی کا ہدف 27 ارب روپے سے زائد حاصل کیا گیا۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 27 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 4 ارب ڈالر تک بڑھانے پر زور دیا ہے، جبکہ وزارت خزانہ کا تخمینہ تقریباً 2.7 ارب ڈالر ہے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں
