
پاکستان اور قطر کا ایل این جی معاہدے پر نظرثانی کا اتفاقپاکستان
ذرائع کے مطابق پی ایس او اور قطر انرجی نے ایک دوسرے کو قیمت پر نظرثانی کے باضابطہ نوٹس بھجوا دیے ہیں؛ دونوں ایل این جی معاہدے 2031ء میں ختم ہو رہے ہیں اور اس سال 24 کارگوز دوسری منازل کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان اور قطر نے اربوں ڈالر مالیت کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) فراہمی معاہدے پر نظرثانی پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی کمپنیوں نے ایک دوسرے کو معاہدے کی قیمت کا جائزہ لینے کے باضابطہ نوٹس بھجوا دیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں گیس کی طلب میں کمی کے باعث ایل این جی کی سپلائی ضرورت سے زیادہ ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور قطر انرجی کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر نظرثانی کے لیے PSO وفاقی حکومت سے رضامندی مانگ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دو ایل این جی معاہدے 2031ء میں ختم ہو رہے ہیں۔ پہلا معاہدہ 15 سال کے لیے 2016ء سے 2031ء تک کا ہے جبکہ دوسرا معاہدہ 2021ء سے 2031ء تک دس سال کے لیے ہے۔ ان معاہدوں کے تحت پاکستان سالانہ 6.75 ملین ٹن ایل این جی یعنی 108 کارگوز حاصل کرتا ہے۔
دونوں معاہدے “ٹیک آر پے” کی بنیاد پر طے پائے ہیں جن کے تحت اضافی کارگوز کو بیرون ملک فروخت کرنے کی صورت میں منافع قطر انرجی کو جاتا ہے جبکہ نقصان PSO کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سال 24 ایل این جی کارگوز کو دوسری منازل کی طرف منتقل کرنے کا معاہدہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔ بجلی کے شعبے کی طلب میں کمی کی وجہ سے سئی سسٹم میں ایل این جی کی سپلائی اضافی ہو گئی تھی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے 2023ء میں PSO کو ماہانہ دو کارگوز کم کرنے کی مذاکرات کی اجازت دی تھی، جس کے نتیجے میں 2026ء کے سالانہ ترسیل منصوبے میں 24 کارگوز کم کیے گئے۔
<h2>قیمت پر نظرثانی کی شرائط</h2> معاہدوں کی شرائط کے مطابق قیمت پر نظرثانی کی مذاکرات شروع ہو چکی ہیں۔ قطر انرجی نے PSO کو 7 مارچ 2026ء کو دوسرے معاہدے (SPA-II) کے حوالے سے قیمت پر نظرثانی کا نوٹس دیا جبکہ PSO نے قطر انرجی کو 19 مارچ 2026ء کو پہلے معاہدے (SPA-I) کے حوالے سے نوٹس بھجایا۔ معاہدے کی شق 15.2 کے تحت کوئی بھی فریق ابتدائی تاریخ کی دسویں سالگرہ کے بعد، یعنی یکم مارچ 2026ء کے بعد، قیمت پر نظرثانی کا نوٹس دے سکتا ہے۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد دونوں فریقوں کو نیک نیتی سے قیمت کی ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت کرنی ہوگی۔
اگر دونوں فریق متفق ہو جائیں تو نظرثانی شدہ قیمت نظرثانی کی تاریخ سے معاہدے کے اختتام تک لاگو ہوگی۔ تاہم اگر نوٹس کے چھ ماہ کے اندر معاہدہ نہ ہو سکے تو کوئی بھی فریق معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ اس طرح پاکستان کے پاس تین آپشن ہیں: نظرثانی شدہ قیمت پر بات چیت کرے، ناکامی کی صورت میں موجودہ قیمت قبول کرے، یا معاہدہ ختم کرے۔ البتہ معاہدے کے خاتمے سے سپلائی کے تسلسل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل آفس نے اس معاملے میں معاہداتی رہنمائی فراہم کی ہے۔
ذرائع کے مطابق معاہدوں میں لچک محدود ہے اور اضافی کارگوز کی فروخت سے ہونے والا منافع فروخت کنندہ کو جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق قیمت پر نظرثانی کی مذاکرات پاکستان کے لیے موجودہ عالمی گیس مارکیٹ کے حالات کے مطابق بہتر شرائط حاصل کرنے کا ایک موقع فراہم کر سکتی ہیں۔
متعلقہ خبریں
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں


