Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
اشتہار / ADVERTISEMENT
970 × 90 Leaderboard (اشتہار)
صفحہ اولBusinessاسٹیٹ بینک نے دو لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی شرائط جاری کر دیں

اسٹیٹ بینک نے دو لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی شرائط جاری کر دیںBusiness

hammadkhaksar
hammadkhaksar
پیر، 5 اکتوبر، 2026
2 منٹ
0 ویوز

اہل شوگر ملز کی برآمدی درخواستوں پر سائٹ لیٹر آف کریڈٹ یا ایڈوانس ادائیگی اور صرف سمندری راستے سے ترسیل کی شرط عائد کی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے دو لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی شرائط جاری کر دیں
شیئر کریں:

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دو لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کے لیے شرائط جاری کر دی ہیں۔ مرکزی بینک نے زرمبادلہ کے مجاز ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اہل شوگر ملز کی برآمدی درخواستوں پر مقررہ شرائط کے تحت کارروائی کریں۔

شرائط کے مطابق ادائیگی سائٹ لیٹر آف کریڈٹ یا ایڈوانس ادائیگی کے ذریعے ہوگی، جبکہ ترسیل صرف سمندری راستے سے کی جائے گی۔ ان شرائط کا مقصد زرمبادلہ کی بروقت وصولی یقینی بنانا اور برآمدی عمل میں شفافیت لانا ہے۔

اشتہار / ADVERTISEMENT
728 × 90 In-Content Banner

چینی کی برآمد کا فیصلہ ملکی اسٹاک کی صورتحال اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے جائزے کے بعد کیا جاتا ہے۔ حکومت عام طور پر برآمد کی اجازت اسی صورت میں دیتی ہے جب ملکی ضروریات کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہو تاکہ مقامی صارفین پر قیمتوں کا بوجھ نہ پڑے۔

معاشی ماہرین کے مطابق چینی کی برآمد سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اور شوگر انڈسٹری کو اضافی پیداوار فروخت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ برآمدی فیصلوں میں ملکی اسٹاک اور قیمتوں کے توازن کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔

شوگر انڈسٹری کے نمائندوں کے مطابق برآمد کی اجازت سے ملز کو اضافی اسٹاک فروخت کرنے میں مدد ملے گی، جس سے گنے کے کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنانے میں آسانی ہوگی۔ کاشتکار تنظیمیں طویل عرصے سے ملز کی طرف سے ادائیگیوں میں تاخیر کی شکایت کرتی آئی ہیں۔

تاہم صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقے کہتے ہیں کہ حکومت کو برآمد کے دوران مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ماضی میں برآمدی فیصلوں کے بعد قیمتوں میں اضافے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، اس لیے اسٹاک کی شفاف نگرانی ناگزیر ہے تاکہ مقامی صارفین متاثر نہ ہوں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائٹ لیٹر آف کریڈٹ اور ایڈوانس ادائیگی کی شرط سے زرمبادلہ کی محفوظ وصولی یقینی ہوگی، جبکہ سمندری ترسیل کی شرط بڑے حجم کی منتقلی کو ممکن اور لاگت کو کم رکھے گی۔

مجاز ڈیلرز اب اہل ملز کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد ان شرائط کے مطابق برآمدی دستاویزات کی کارروائی کریں گے۔

متعلقہ خبریں