ورلڈ بینک کی نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرض گزشتہ 10 سال میں تقریباً دوگنا ہوگیا ہے۔ 2015 میں یہ قرض 68.67 ارب ڈالر تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 135.11 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ورلڈ بینک کی انٹرنیشنل ڈیبٹ رپورٹ 2026 میں شائع ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کل بیرونی قرض میں سے 107.07 ارب ڈالر حکومتی اور حکومت کی ضمانت والا قرض ہے، جبکہ نجی شعبے کا بغیر ضمانت والا بیرونی قرض 17.58 ارب ڈالر ہے۔ قلیل مدتی بیرونی قرض 10.45 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض دہندہ ہے، جس کے 22.4 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ ورلڈ بینک کے 19.2 ارب ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے 16.83 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ 2025 میں چین نے پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کی، جبکہ آئی ایم ایف نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت 2.3 ارب ڈالر کی نئی قسطیں جاری کیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں پاکستان نے بیرونی قرض کی ادائیگی پر تقریباً 13.69 ارب ڈالر خرچ کیے، جن میں اصل رقم اور سود دونوں شامل ہیں۔ یہ رقم ملک کی زرمبادلہ کی آمدنی کا بڑا حصہ ہے، جو ترقیاتی منصوبوں اور درآمدات کے لیے دستیاب رقم کو کم کرتی ہے۔
پاکستان کا بیرونی قرض ایک وسیع تر عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کا مجموعی بیرونی قرض 2025 میں 5.5 فیصد بڑھ کر 9.4 کھرب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، جو 2021 کے بعد سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، درآمدات پر انحصار، برآمدات میں کمی اور بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں کے لیے قرض لینا شامل ہے۔ ان عوامل نے پاکستان کو کثیرالجہتی، دوطرفہ اور نجی قرض دہندگان پر انحصار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرکاری قرض دہندگان سے لیے گئے قرضوں کی اوسط مدت 16 سال ہے، جس میں چار سال کی رعایتی مدت اور اوسطاً 3.6 فیصد شرح سود شامل ہے۔ تاہم قرض کا مجموعی حجم بڑھنے سے ادائیگی کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔
حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ قرض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ معیشت کو ترقی کی راہ پر بھی رکھے۔ برآمدات بڑھانا، درآمدات پر قابو پانا اور ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنا وہ اقدامات ہیں جن پر ماہرین زور دیتے ہیں، تاکہ بیرونی قرض پر انحصار کم ہو سکے۔








