Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / Languageاردو
Tuesday, September 22, 2026
Free E-Paper
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
© 2026 Daily Hayat. All rights reserved. Azad Jammu & Kashmir's Premier News Organization.
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
HomeHealthدھوپ کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی: 73 فیصد افراد متاثر

دھوپ کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی: 73 فیصد افراد متاثرHealth

hammadkhaksar
By hammadkhaksar
2026-11-02
3 min read

لاہور میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج کی فراوانی کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی ایک خاموش صحت کا بحران بن چکی ہے، جو ہڈیوں کو کمزور کر رہی ہے۔

دھوپ کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی: 73 فیصد افراد متاثر
Share:

پاکستان میں سورج کی فراوانی کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی ایک سنگین اور خاموش صحت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ لاہور میں منعقدہ ایک طبی سیمینار میں ماہرین نے کہا کہ ملک میں ہر عمر کے افراد اس کمی کا شکار ہیں، اور اس بارے میں عوامی آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔

یہ خدشات ڈی کنیکٹ سمٹ 2026 میں سامنے آئے، جو ورلڈ وٹامن ڈی ڈے کی مناسبت سے لاہور کے مال روڈ پر واقع ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اس سیمینار کا اہتمام ایک دوا ساز ادارے نے کیا تھا، جس میں مختلف شعبوں کے طبی ماہرین نے شرکت کی اور وٹامن ڈی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

میو اسپتال لاہور کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے اپنے خطاب میں کہا کہ وٹامن ڈی انسان کی زندگی کے ہر مرحلے میں ہڈیوں کی صحت کا ساتھی ہے، بچپن سے لے کر بڑھاپے تک۔ ان کے مطابق ہڈیاں صرف جسم کو سہارا نہیں دیتیں، بلکہ حرکت میں مدد کرتی ہیں، اہم اعضا کی حفاظت کرتی ہیں اور جسم میں کیلشیم کا توازن برقرار رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان کو وٹامن ڈی کی کمی کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے، حالانکہ ملک میں سورج کی روشنی وافر مقدار میں موجود ہے۔ سیمینار میں پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق تقریباً 73 فیصد افراد وٹامن ڈی کی کمی یا اس کی ناکافی سطح کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کتنا وسیع ہے، اور اسے نظر انداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین نے اس کمی کی کئی وجوہات بیان کیں۔ لوگ جلد کی رنگت خراب ہونے کے خدشے اور شدید موسم کی وجہ سے براہ راست دھوپ سے گریز کرتے ہیں۔ لباس کی عادات، سماجی رسوم اور گھروں کے اندر گزرنے والی طرز زندگی بھی دھوپ کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانے کی عادات میں تبدیلی نے بھی مسئلہ بڑھایا ہے، کیونکہ اب لوگ غذا کے انتخاب میں ذائقے کو غذائیت پر ترجیح دیتے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی کے نتائج خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہڈیوں کا بھربھرا پن، یعنی آسٹیوپوروسس، اکثر اس وقت تک پوشیدہ رہتا ہے جب تک کوئی ہڈی ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے کمزور ہڈیوں کی بروقت شناخت اور روک تھام انتہائی ضروری ہے، ورنہ ایک معمولی گرنا بھی بڑی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔

سیمینار میں شریک ماہرین نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف دوا پر انحصار کافی نہیں۔ عوام کو دھوپ کی اہمیت، متوازن غذا اور باقاعدہ طبی معائنے کے بارے میں بتانا ہوگا۔ جن افراد میں ہڈیوں یا پٹھوں میں مسلسل درد، تھکاوٹ یا کمزوری کی علامات ہوں، انہیں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص ہو سکے۔

ماہرین کا پیغام واضح تھا: سورج کی روشنی ایک نعمت ہے، لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے شعور اور درست طرز زندگی ضروری ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کو سنجیدگی سے لینا ہی ہڈیوں کی صحت اور بہتر معیار زندگی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

دھوپ کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی: 73 فیصد افراد متاثر