پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 2400 روپے مہنگا ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 412136 روپے ہو گئی ہے۔ دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 2058 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور وہ اب 353340 روپے پر پہنچ گئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت اوپر گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی سطح پر فی اونس سونا 24 ڈالر مہنگا ہو کر 3896 ڈالر پر آ گیا ہے۔ عالمی قیمت میں اضافہ عام طور پر مقامی مارکیٹ پر بھی اثر ڈالتا ہے، اس لیے پاکستان میں قیمتوں کا بڑھنا حیران کن نہیں سمجھا جا رہا۔
گزشتہ ہفتے کی کمی کے بعد واپسی
یہ اضافہ اس کمی کے بعد سامنے آیا ہے جو گزشتہ ہفتے دیکھی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے روز فی تولہ سونے کی قیمت میں 10800 روپے کی بڑی کمی ہوئی تھی۔ اس پس منظر میں تازہ اضافہ جزوی واپسی کی صورت میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم قیمت اب بھی بہت بلند سطح پر موجود ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ شادیوں کے موسم میں زیورات کی خریداری کرنے والے خاندانوں کے لیے قیمت میں چند ہزار روپے کی تبدیلی بھی بجٹ پر واضح اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کے طور پر سونا رکھنے والے افراد قیمتوں کی روزانہ کی حرکت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
خریداروں کے لیے کیا معنی ہے
ماہرین عام طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ سونے کی خریداری سے پہلے تازہ قیمت کی تصدیق کر لی جائے، کیونکہ مقامی نرخ دن کے دوران بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ مختلف شہروں میں معمولی فرق بھی ممکن ہے، اس لیے حتمی سودا کرنے سے پہلے مقامی صرافہ مارکیٹ سے نرخ معلوم کرنا بہتر رہتا ہے۔
سونے کو روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ جب عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار اکثر سونے کی طرف رجوع کرتے ہیں، جس سے اس کی مانگ اور قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف جب عالمی مارکیٹ مستحکم ہوتی ہے تو قیمتوں میں کمی بھی دیکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سونے کی قیمت میں روزانہ اتار چڑھاؤ ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔
موجودہ اضافے کے بعد خریداروں اور دکانداروں کی نظریں اب اگلے دنوں کی قیمتوں پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر عالمی قیمت میں مزید اضافہ ہوا تو مقامی مارکیٹ میں بھی اس کا اثر نظر آ سکتا ہے، اور اگر عالمی سطح پر کمی آئی تو مقامی قیمتوں میں بھی نرمی ممکن ہے۔ اس لیے آنے والے دن سونے کی مارکیٹ کے لیے اہم ہوں گے۔








