احتیاط کی معاشیات بالکل واضح ہے۔ ایک صاف پانی کی سکیم پر خرچ ہونے والی رقم، ہیپاٹائٹس اور ٹائیفائیڈ کے ہزاروں مریضوں کے علاج سے کہیں کم ہے۔ ویکسینیشن کی ایک مہم، وبا کے دوران لاک ڈاؤن اور معاشی تباہی سے سستی ہے۔ لیکن ہمارا صحت کا نظام بنیادی طور پر علاج پر مرکوز ہے — اسپتال بنانا، مشینیں خریدنا، اور آپریشن تھیٹر بڑھانا۔ یہ سب ضروری ہیں، لیکن یہ اس مسئلے کا صرف آخری سرا ہیں۔ پہلا سرا گلی، محلے اور بازار میں ہے۔
ہمارے شہروں کے صحت کے بنیادی مسائل سب کو معلوم ہیں۔ پینے کا صاف پانی بہت سے علاقوں میں اب بھی خواب ہے۔ سیوریج کا نظام بارشوں میں ابل پڑتا ہے۔ فضائی آلودگی، خاص طور پر سردیوں میں، سانس کے مریضوں کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔ خوراک کی حفاظت کا حال یہ ہے کہ ملاوٹ اور غیر معیاری اشیا کی خبریں معمول بن چکی ہیں۔ یہ مسائل کسی ایک محکمے کے نہیں — یہ بلدیات، محکمہ صحت، ماحولیات اور خوراک کے اداروں کی مشترکہ ناکامی ہیں۔ اور جب ذمہ داری سب کی ہو تو عملاً کسی کی نہیں ہوتی۔
حل کا آغاز بنیادی صحت کی سہولتوں سے ہونا چاہیے۔ ہر محلے میں فعال بنیادی مرکز صحت، جو صرف دوائی بانٹنے کی دکان نہ ہو بلکہ ویکسینیشن، حاملہ خواتین کی دیکھ بھال، بچوں کی نشوونما کی نگرانی اور دائمی امراض کی اسکریننگ کرے — یہ وہ سرمایہ کاری ہے جو اسپتالوں کا بوجھ کم کرتی ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کا پروگرام اس کی بہترین مثال ہے: گھر گھر پہنچنے والی یہ خواتین برسوں سے خاموشی سے لاکھوں خاندانوں کی صحت سنبھالے ہوئے ہیں۔ ایسے پروگراموں کو مضبوط کرنا، ان کے معاوضے اور تربیت بہتر بنانا، نئے اسپتال کی عمارت سے زیادہ فائدہ مند ہے۔
دوسرا بڑا قدم شہری منصوبہ بندی کو صحت سے جوڑنا ہے۔ صاف ہوا، کھیل کے میدان اور سبز علاقے عیاشی نہیں، صحت کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ اسی طرح خوراک کی نگرانی کو سنجیدہ مستقل نظام بنانا ہوگا — چھاپے خبر تو بنتے ہیں، لیکن اصل کام مسلسل معیار کی نگرانی ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے مشکل کام عوامی آگہی ہے۔ بہت سی بیماریاں محض معلومات کی کمی سے پھیلتی ہیں: صاف پانی ابال کر پینا، ہاتھ دھونا، ویکسین لگوانا، تمباکو سے دور رہنا۔ یہ باتیں سادہ ہیں، لیکن ان کا اثر بہت گہرا ہے۔ اسکولوں میں صحت کی تعلیم، مساجد اور کمیونٹی مراکز کے ذریعے پیغامات، اور مقامی زبانوں میں مہمات — یہ وہ سستے اوزار ہیں جو بڑے نتائج دیتے ہیں۔
ہمیں اپنا پیمانہ بھی بدلنا ہوگا۔ کامیابی یہ نہیں کہ کتنے نئے اسپتال بنے، بلکہ یہ کہ کتنے لوگ اسپتال جانے سے بچ گئے۔ جس دن پالیسی ساز یہ سوال پوچھنے لگیں گے کہ ہمارے شہر میں بیمار ہونے کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے — نہ کہ صرف یہ کہ بستر کم کیوں ہیں — اس دن صحت کا نظام واقعی ٹھیک ہونا شروع ہوگا۔
احتیاط علاج سے سستی ہے۔ یہ کوئی نعرہ نہیں، یہ حساب ہے۔ اور حساب میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔


