ٹریفک کے سگنل پر رکنے والا ہر ڈرائیور ہارن بجانے کو اپنا حق سمجھتا ہے، گویا ہارن بجائے بغیر ٹریفک آگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔ شادی کی تقریبات میں رات گئے تک ڈی جے کی آواز پورے محلے کی نیند برباد کر دیتی ہے۔ تعمیراتی کاموں کی مشینیں، دکانوں کے لاؤڈ اسپیکر، اور محلے میں چلنے والی مختلف تقریبات — ہر جگہ شور ہی شور ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کب سے ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن گیا؟
اس شور کی سب سے بڑی متاثرین ہماری وہ آبادیاں ہیں جو پہلے ہی کمزور ہیں۔ ایک مریض جو اسپتال کے بستر پر آرام کی کوشش کر رہا ہے، اس کے کمرے کی کھڑکی کے باہر ٹریفک کا شور اس کی تکلیف کو دوگنا کر دیتا ہے۔ ایک طالب علم جو امتحان کی تیاری میں مصروف ہے، پڑوس کی شادی کی آواز میں اپنا سبق بھول جاتا ہے۔ بزرگ جن کی نیند پہلے ہی ہلکی ہوتی ہے، رات بھر کی آوازوں میں جاگتے رہتے ہیں۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی تکلیفیں نہیں ہیں؛ یہ ہماری اجتماعی صحت اور سکون کی قیمت ہے جو ہم روزانہ ادا کر رہے ہیں۔
شور کے خلاف قوانین تو موجود ہیں — اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے گرد خاموش علاقے مقرر ہیں، رات کے مخصوص اوقات میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی ہے — مگر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ شادی ہال رات بارہ بجے کے بعد بھی کیوں گونج رہا ہے، کوئی روکنے والا نہیں کہ سگنل پر کھڑی گاڑیوں کے ہارن کیوں بج رہے ہیں۔ جب قانون نافذ کرنے والے ہی خاموش ہوں تو شہری ذمہ داری بھی خاموش ہو جاتی ہے۔
اصل مسئلہ ہماری سوچ کا ہے۔ ہم نے شور کو طاقت اور خوشی کی علامت بنا لیا ہے۔ جس کی آواز اونچی، وہی کامیاب؛ جس کی تقریب میں شور زیادہ، وہی یادگار۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کے سکون میں خلل ڈالنا کوئی فخر کی بات نہیں، یہ ایک سماجی برائی ہے۔ جس طرح گندگی پھیلانا برا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح بے وجہ شور پھیلانا بھی برا ہونا چاہیے۔
حل مشکل نہیں، صرف ارادے کی کمی ہے۔ ہر شہری اپنے گھر سے شروع کر سکتا ہے: بے وجہ ہارن نہ بجائے، تقریبات میں آواز کی حد کا خیال رکھے، اسپتالوں اور اسکولوں کے قریب خاص احتیاط کرے۔ انتظامیہ کو خاموش علاقوں کا باقاعدہ اعلان کرنا چاہیے اور خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنے چاہئیں۔ اسکولوں میں بچوں کو شور کی آلودگی کے نقصانات سکھائے جائیں تاکہ آنے والی نسل اسے سنجیدہ لے۔
ایک پرسکون شہر کوئی خواب نہیں، یہ ہمارا حق ہے۔ جس دن ہم شور کو برداشت کرنے کی بجائے اس کے خلاف آواز اٹھانا شروع کریں گے، اس دن ہمارے شہر واقعی رہنے کے قابل بنیں گے۔ خاموشی بھی ایک نعمت ہے — اس کی قدر کرنا سیکھیے، اور دوسروں کے سکون کا احترام کیجیے۔


