mirpurآزاد کشمیر: نو منتخب ارکان اسمبلی کی تین روزہ تربیتی ورکشاپآزاد کشمیرmuzaffarabad
مظفرآباد میں اسمبلی اسپیکر کی ہدایت پر پپس کے زیر اہتمام ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کی تربیت کا اہتمام کیا گیا، جو 22 اکتوبر کو ختم ہوگا۔

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے نو منتخب ارکان اور عہدیداروں کے لیے قانون سازی کے طریقہ کار، پارلیمانی نگرانی اور بجٹ کی جانچ پر تین روزہ اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے، جو 22 اکتوبر کو مکمل ہوگا۔ پروگرام کا اہتمام پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمانی سروسز (پپس) نے اسمبلی اسپیکر چوہدری طارق فاروق کی ہدایت پر کیا ہے، جب کہ اس کے آغاز کا اعلان منگل کو اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کیا گیا تھا۔
پروگرام کے افتتاحی روز شرکاء کو آزاد کشمیر کے عبوری آئین 1974، اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور قانون سازی کے عمل کے بنیادی نکات سے آگاہ کیا گیا۔ اس سیشن میں حکومتی بلز اور پرائیویٹ ممبرز بلز کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا، تاکہ نو منتخب ارکان قانون سازی کے طریقہ کار کو بخوبی سمجھ سکیں۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق یہ سیشن نئے ارکان کے لیے اسمبلی کی کارروائی میں فعال کردار ادا کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
دوسرے روز کا پروگرام پارلیمانی سوالات، توجہ دلاؤ نوٹسز، قراردادوں اور مباحثوں پر مشتمل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کراس پارٹی مشاورت، عوامی رابطہ کاری اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں پارلیمنٹ کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق ان سیشنز کا مقصد ارکان کو اپنے حلقوں کے مسائل اسمبلی میں موثر انداز میں اٹھانے کی تربیت دینا ہے۔
پروگرام کا آخری روز آزاد کشمیر سے متعلق علاقائی اور بین الاقوامی امور، پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات و فرائض اور اسمبلی کے مالی نگرانی میں کردار پر مرکوز رہا۔ شرکاء کو ریاستی بجٹ سازی کے طریقہ کار اور بجٹ دستاویزات کی جانچ و تجزیے کی تکنیک سے بھی آگاہ کیا گیا، تاکہ وہ بجٹ کے عمل میں بہتر نگرانی کر سکیں۔
پریس ریلیز کے مطابق پروگرام کا مجموعی مقصد ارکان اسمبلی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، ادارہ جاتی نگرانی کو بہتر کرنا اور اسمبلی فلور پر عوامی مسائل کو موثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ پپس نے اس پروگرام کے لیے تعلیمی و تکنیکی معاونت کی پیشکش کی تھی، جس میں پروگرام کا خاکہ تیار کرنا اور ماہرین و سہولت کاروں کا انتظام شامل ہے۔
واضح رہے کہ پپس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاصم خان گورایہ نے 25 اگست کے خط میں پروگرام کے اخراجات کے لیے ترقیاتی شراکت دار کی شمولیت کی تجویز پیش کی تھی، جب کہ شرکاء کے سفر و قیام کی سہولت اسمبلی سیکرٹریٹ کی ذمہ داری قرار دی گئی تھی۔ تاہم، پریس ریلیز میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ان تجاویز پر بعد ازاں عمل درآمد ہوا یا نہیں۔
متعلقہ خبریں
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں


