Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولدنیابرطانیہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ٹائفون طیارے بھیجے گا

برطانیہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ٹائفون طیارے بھیجے گادنیا

hammadkhaksar
hammadkhaksar
جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
3 منٹ
0 ویوز

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ رائل ایئر فورس کے ٹائفون طیارے حوثی میزائلوں اور ڈرونز سے سعودی عرب کی فضائی حدود کا دفاع کریں گے، تاہم وہ حملے نہیں کریں گے۔

برطانیہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ٹائفون طیارے بھیجے گا
شیئر کریں:

لندن: برطانیہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے بعد سعودی فضائی حدود کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس کے جدید ٹائفون طیارے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزارت دفاع کی جانب سے منگل 20 اکتوبر کو جاری بیان کے مطابق یہ طیارے سعودی شہروں، شہری آبادیوں اور اہم قومی تنصیبات کو فضائی حملوں سے بچانے کے لیے دفاعی پروازیں کریں گے۔

بی بی سی کے مطابق وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ ٹائفون طیارے مکمل طور پر دفاعی کردار ادا کریں گے اور یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے نہیں کریں گے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یہ امداد خود طلب کی تھی اور یہ فیصلہ علاقے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

<h2>امدادی پیکج میں کیا شامل ہے</h2> ٹائفون طیاروں کے ساتھ ساتھ برطانیہ اے 400 ایم اٹلس ٹرانسپورٹ طیارہ بھی سعودی عرب بھیجے گا جو دفاعی سازوسامان کی اندرون ملک منتقلی میں مدد فراہم کرے گا۔ برطانوی فوجی مشیر بھی سعودی حکام کے ساتھ تعاون کریں گے۔ مزید برآں برطانیہ سعودی طیاروں کے لیے ایئر ٹو ایئر ایندھن فراہم کرنے والی سپورٹ میں 90 دن کی توسیع بھی کرے گا، جس کا آغاز گذشتہ ماہ کیا گیا تھا۔

<h2>وزیر دفاع کا موقف</h2> وزیر دفاع نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملے ناقابل قبول ہیں اور ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ حوثی علاقے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی طیارے سعودی فضائی حدود کو ڈرونز اور میزائلوں سے بچانے کے لیے دفاعی مشن اڑائیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے واضح کیا کہ اضافی دفاعی امداد فراہم کرنے کا مطلب یمن کی جنگ میں براہ راست فوجی مداخلت نہیں ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق اس تعاون کا مقصد شہریوں کا تحفظ، سعودی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور علاقائی استحکام کی حمایت ہے۔

رواں ماہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا جس سے علاقائی سلامتی اور فضائی سفر پر تشویش بڑھی ہے۔ برطانوی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطی میں بڑھتی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی، تجارتی راستوں اور برطانوی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و سلامتی برطانیہ کے اقتصادی اور قومی مفاد میں ہے، تاہم یمن تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور وہ اقوام متحدہ کی قیادت میں امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں