Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولپاکستانحکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کا آخری دور منگل کو ہوگا

حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کا آخری دور منگل کو ہوگاپاکستان

hammadkhaksar
hammadkhaksar
ہفتہ، 7 نومبر، 2026
3 منٹ
ہمیں فالو کریں:WhatsAppFacebook

حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کا آخری دور منگل 10 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگا، جس میں پٹرولیم لیوی سمیت چار نکات پر بات ہوگی۔

حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کا آخری دور منگل کو ہوگا
شیئر کریں:

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو آگاہ کیا ہے کہ مذاکرات کا آخری دور منگل 10 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے 20 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس میں سے 16 نکات پر اتفاق ہو چکا ہے جبکہ چار نکات پر ابھی بات چیت جاری ہے، جن میں پٹرولیم لیوی بھی شامل ہے۔

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کی قیادت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں۔ حکومتی کمیٹی نے 6 نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں جماعت اسلامی کی کمیٹی سے ملاقات کی تھی۔ حافظ نعیم الرحمن کے مطابق حکومت آئندہ مشاورت کے بعد مسودہ معاہدہ جماعت اسلامی کے ساتھ شیئر کرے گی، جس کا جائزہ لینے کے بعد جماعت اسلامی اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

مذاکرات کا مرکزی نکتہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو ریلیف دینا ہے۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی مرحلہ وار ختم کی جائے اور عام آدمی کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے۔ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے چھ تجاویز پیش کی تھیں، جن میں لیوی کا خاتمہ، ریلیف پیکج، پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی اور زرعی شعبے کو ریلیف شامل ہے۔

اس سے قبل 3 نومبر کو ہونے والے مذاکرات کے بعد جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا تھا کہ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے تسلیم کیا تھا کہ لیوی کا خاتمہ ضروری ہے اور حکومت نے کسانوں اور 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ریلیف دینے پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں کمیٹیوں نے لیوی کے مرحلہ وار خاتمے اور عوامی ریلیف کے لیے ورکنگ پیپر تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

مذاکرات کا یہ سلسلہ وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور پٹرولیم قیمتوں اور عوامی ریلیف پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جماعت احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے اور نومبر کے وسط میں ملتان سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت غزہ کے عوام کے لیے جو کچھ ممکن ہوگا کرے گی اور پاکستان غزہ کے عوام کی آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں اور پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔