بیجنگ نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ چین، امریکہ اور روس کے سربراہان کی ممکنہ سہ فریقی ملاقات پر بات چیت جاری ہے، جس سے اس ماہ شینزن میں تینوں رہنماؤں کے ایک ساتھ بیٹھنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین تینوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات کے بارے میں متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ بیجنگ نے اس طرح کی بات چیت کی عوامی طور پر تصدیق کی ہے۔
یہ ملاقات اگر ہوئی تو ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہو سکتی ہے، جو 18 اور 19 نومبر کو جنوبی چین کے شہر شینزن میں ہونا ہے۔ چین اس اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں فورم کی 21 رکن معیشتوں کے رہنما اور نمائندے شریک ہوں گے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی شامل ہیں۔
بات چیت کہاں سے شروع ہوئی؟
رپورٹوں کے مطابق اس تجویز کی ابتدا روسی صدر پوتن کی جانب سے ہوئی، جنہوں نے 9 اکتوبر کو صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت میں سہ فریقی ملاقات کی تجویز دی تھی۔ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد یوکرین میں جنگ کے خاتمے پر بات چیت کرنا تھا۔
فنانشل ٹائمز نے 3 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ تینوں ممالک کے حکام تقریباً دو ہفتوں سے اس ملاقات کے انتظام پر خفیہ بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کے اگلے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ اس ملاقات کے انتظام پر کام جاری ہے، اور یہ بھی بتایا گیا کہ شی جن پنگ اور پوتن کے درمیان 18 نومبر کو شینزن میں ملاقات متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ کے بھی شینزن جانے کی توقع ہے، جہاں وہ صدر شی سے دو طرفہ ملاقات کریں گے، جو اس سال ان کی تیسری ملاقات ہوگی۔ رپورٹوں کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان نازک تجارتی جنگ بندی جنوری میں ختم ہو رہی ہے، اس لیے یہ ملاقات تجارتی معاملات کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
یوکرین کی تشویش
ممکنہ سہ فریقی ملاقات نے یوکرین میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں حکام کو خدشہ ہے کہ بڑی طاقتیں یوکرین کے مستقبل پر اس کی شمولیت کے بغیر فیصلے کر سکتی ہیں۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ایسے انتظامات نہیں ہونے چاہئیں جو متاثرہ ممالک کو شامل کیے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقات ہو بھی جائے تو اس سے زیادہ ٹھوس نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ ملاقات زیادہ تر ایک علامتی موقع ہو سکتی ہے، جس میں چین خود کو ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر پیش کرے گا، لیکن یوکرین یا جوہری ہتھیاروں جیسے مشکل معاملات پر فوری معاہدہ ہونے کا امکان کم ہے۔
فی الحال بیجنگ کی تصدیق سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بات چیت جاری ہے، یہ نہیں کہ ملاقات طے پا گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا تینوں رہنما واقعی ایک میز پر بیٹھیں گے، یا یہ بات چیت دو طرفہ ملاقاتوں تک محدود رہے گی۔








