ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ کی تازہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور عوامی تحفظات دور کرنے کے لیے فوری طور پر بامعنی مذاکرات شروع کیے جائیں۔ کمیشن نے اپنے جاری کردہ بیان میں میڈیا کو علاقے تک بلا رکاوٹ رسائی دینے پر بھی زور دیا ہے تاکہ صحافی آزادانہ طور پر صورتحال کی رپورٹنگ کر سکیں۔
واضح رہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے رواں سال جون کے آغاز میں مہنگائی، بجلی کے بڑھتے نرخوں، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف تحریک شروع کی تھی۔ کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ مختلف پرتشدد واقعات کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے 5 جون کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے بعد کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا جبکہ بعض ارکان نے کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔
ایچ آر سی پی کے مطابق راولاکوٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے اگست کے اوائل میں آزاد کشمیر کے دورے کے دوران حقائق جاننے کے لیے بھیجے گئے اپنے مشن میں بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ کمیشن نے ایک بار پھر وفاقی اور آزاد کشمیر حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکیں اور شہریوں کے تحفظات سننے کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کریں۔
ایچ آر سی پی نے واضح کیا کہ اس وقت اولین ترجیح مزید جانی نقصان کو روکنا اور تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا ہونا چاہیے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں کمی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے حکومتوں کو سنجیدہ اور بامعنی بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
میڈیا کو آزادانہ رسائی کا مطالبہ
اپنے بیان میں کمیشن نے میڈیا کی آزادانہ رپورٹنگ کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو علاقے تک بلا رکاوٹ رسائی ملنی چاہیے تاکہ وہ صورتحال کی آزادانہ رپورٹنگ کر سکیں اور عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔
دوسری جانب سرکاری ٹی وی نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے راولاکوٹ میں کئی ماہ سے جاری احتجاجی دھرنوں کے خلاف علی الصبح کارروائی کرتے ہوئے بس ٹرمینل کو مظاہرین سے خالی کرا لیا تھا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق اس سے ایک روز قبل ضلع باغ کے علاقے کوٹھیوں میں بھی کلیئرنس آپریشن کے ذریعے جاری دھرنا ختم کرایا گیا تھا۔ آپریشن کے بعد انتظامیہ نے راولاکوٹ میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلسے، جلوس، ریلی اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی تھی۔
کمیشن نے اپنے بیان میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ اور ان کے تحفظات کے حل کے لیے مذاکرات کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام مسائل کا پرامن اور بات چیت کے ذریعے حل ہی صورتحال کو معمول پر لانے کا راستہ ہے۔








