
صحت نظام تباہی کے دہانے پر: وزیر صحت کا انتباہHealth
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق بڑھتی آبادی پاکستان کے نظامِ صحت کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بچاؤ پر توجہ ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی کے دباؤ میں پاکستان کا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ ان کے مطابق محدود وسائل اور طبی سہولتوں پر مسلسل بڑھتا بوجھ اسپتالوں کے لیے سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں شرحِ پیدائش 3.7 فیصد ہے اور ہر سال تقریباً 57 لاکھ سے 67 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی میں یہ تیزی سے اضافہ اسپتالوں، ڈاکٹروں اور صحت کی بنیادی سہولتوں پر اس قدر دباؤ ڈال رہا ہے کہ نظام جواب دینے لگا ہے۔
وزیر صحت کے مطابق آبادی کے بڑھتے دباؤ کے نتائج صرف صحت تک محدود نہیں؛ تعلیم، روزگار اور بنیادی ڈھانچے سمیت ہر شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آبادی کی منصوبہ بندی پر توجہ نہ دی گئی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
<h2>ذمہ دار والدیت پر زور</h2> وزیراعظم شہباز شریف بھی ذمہ دار والدیت اور مؤثر آبادیاتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت نے رواں برس جولائی میں قومی آبادی کونسل قائم کی تھی، جو آبادی میں اضافے کے صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی ڈھانچے پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملیاں تیار کرے گی۔
ماہرینِ صحت کے مطابق پاکستان میں صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ علاج پر خرچ ہوتا ہے جبکہ بیماریوں سے بچاؤ پر سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ ذیابیطس، بلڈ پریشر، انفیکشن، غذائیت کی کمی اور ذہنی امراض جیسی روک تھام کے قابل بیماریاں صحت کے نظام پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔
حال ہی میں کراچی میں صحت کے ایک بین الاقوامی اجلاس میں ماہرین نے کہا تھا کہ صرف مزید ڈاکٹر، سرجن اور اسپتال بنا کر نظام نہیں بچایا جا سکتا؛ روک تھام اور بنیادی صحت کی سہولتوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں 34.5 ملین سے زائد بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق 30 سے 79 سال کی عمر کے 43 فیصد بالغ افراد بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں۔
وزیر صحت کے انتباہ کے بعد حکومت کی جانب سے صحت کے نظام کی مضبوطی، آبادیاتی منصوبہ بندی اور بنیادی صحت کی سہولتوں کی توسیع کو اولین ترجیح قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اور مستقل فنڈنگ کے بغیر صورتحال بدلنا مشکل ہوگا۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں


