mirpurمری مظفرآباد ایکسپریس وے پر جلد کام شروع ہوگاآزاد کشمیرmuzaffarabad
وفاقی حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مری ایکسپریس وے کی مظفرآباد تک توسیع سمیت چار بڑے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مری مظفرآباد ایکسپریس وے سمیت چار بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کی۔
میٹنگ میں این-75 کی توسیع سے متعلق اہم مشاورت مکمل کی گئی، جس کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو خود کفیل ادارہ بنانے کی تجاویز کو حتمی شکل دی گئی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی صلاحیت پانچ سو ارب سے ایک کھرب روپے تک بڑھانے کی تجویز زیر غور آئی ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور نجکاری کمیشن کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایات دیں تاکہ سڑکوں کے چار بڑے منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت عملی شکل اختیار کر سکیں۔ ان منصوبوں میں مری ایکسپریس وے کی ستر کلومیٹر توسیع کر کے اسے مظفرآباد تک پہنچانا شامل ہے۔
اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو مستحکم بنانے کے لیے طویل مدتی مالیاتی منصوبہ بندی پر بھی بات ہوئی۔ وزیر مواصلات کا کہنا تھا کہ اگر ہائی وے اتھارٹی خود کفیل ہو جائے تو مستقبل کے منصوبے تیز رفتاری سے مکمل ہوں گے اور نجی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
یاد رہے کہ وزیر مواصلات نے گزشتہ ہفتے ایک تقریب میں بھی مری ایکسپریس وے کی مظفرآباد تک توسیع کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے عوام کو جدید سفری سہولتیں میسر آئیں گی۔ اس اعلان کے بعد اب باضابطہ فیصلہ آنے سے آزاد کشمیر کے شہریوں میں بہتر سفری سہولتوں کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
<h2>آزاد کشمیر کے لیے نئے راستے کی اہمیت</h2> عبدالعلیم خان نے کہا کہ مری ایکسپریس وے کی تعمیر کا مقصد آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان کے مرکزی موٹروے اور ایکسپریس وے نیٹ ورک سے براہ راست جوڑنا ہے۔ اس سے مقامی شہریوں، سیاحوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سفر محفوظ اور آسان ہو جائے گا۔
اجلاس میں مختلف ہائی وے نیٹ ورکس کی مالی اور تجارتی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ نجی شعبے کی شراکت کے امکانات کا تعین کیا جا سکے۔ شرکا نے غور کیا کہ موٹروے ایم-10 کے ایک سو انہر کلومیٹر حصے کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، اجلاس میں مانسہرہ، ناران، جھل کھنڈ اور چلاس موٹروے کو چینی سرحد سے جوڑنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ ان منصوبوں کے عملی شکل اختیار کرنے سے خطے میں تجارت، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزنامہ حیات فیس بک پیج
روزانہ کی تازہ خبریں اور اہم اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں۔
فیس بک پر فالو کریں


