Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولپاکستانلاہور ہائی کورٹ: 3 ججز گوجرانوالہ، عیسیٰ خیل، پپلاں منتقل

لاہور ہائی کورٹ: 3 ججز گوجرانوالہ، عیسیٰ خیل، پپلاں منتقلپاکستان

hammadkhaksar
hammadkhaksar
پیر، 2 نومبر، 2026
3 منٹ
ہمیں فالو کریں:WhatsAppFacebook

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر تین ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کا فوری تبادلہ کر دیا گیا ہے، جن کی نئی تعیناتیوں کے نوٹیفکیشن جاری ہو گئے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ: 3 ججز گوجرانوالہ، عیسیٰ خیل، پپلاں منتقل
شیئر کریں:

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر تین ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کا فوری طور پر تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ یہ تبادلے پیر کے روز سامنے آئے اور ان کے بارے میں بتایا گیا کہ رجسٹرار نے متعلقہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ تقرریاں فوری طور پر نافذ ہو گئیں۔

تبادلہ ہونے والے ججز میں چوہدری سلطان محمود شامل ہیں، جنہیں گوجرانوالہ منتقل کیا گیا ہے۔ دوسرے جج عبدالستار ہیں، جن کی نئی تعیناتی عیسیٰ خیل میں کی گئی ہے۔ تیسرے جج چوہدری رضا عباس ہیں، جنہیں پپلاں بھیجا گیا ہے۔ تینوں ججز اب اپنی نئی جگہوں پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ضلعی عدلیہ کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں۔ وہ ضلع کی سطح پر سنگین فوجداری مقدمات سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتے ہیں، اور ان کے فیصلے عام لوگوں کی زندگیوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے کسی جج کی تعیناتی یا تبادلہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے متعلقہ ضلع میں مقدمات کی سماعت اور عدالتی کام کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

تبادلے عدالتی نظام میں ایک معمول کا انتظامی عمل سمجھے جاتے ہیں۔ کبھی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے، کبھی کام کے بوجھ کو متوازن کرنے کے لیے اور کبھی انتظامی ضروریات کے تحت ججز کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع منتقل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر ضلع میں عدالتی کام بغیر رکاوٹ کے چلتا رہے اور سائلین کو انصاف کے حصول میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔

گوجرانوالہ پنجاب کا ایک بڑا اور مصروف ضلع ہے، جہاں مقدمات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور عدالتی کام کا دباؤ بھی زیادہ رہتا ہے۔ وہاں کسی تجربہ کار جج کی تعیناتی عدالتی نظام کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح عیسیٰ خیل اور پپلاں میں بھی ضلعی عدلیہ کا کام مقامی لوگوں کے لیے انصاف تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور وہاں ججز کی موجودگی مقدمات کے بروقت فیصلوں کے لیے ضروری ہے۔

نوٹیفکیشن کا جاری ہونا اس عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ نوٹیفکیشن کے بعد تبادلہ باضابطہ طور پر نافذ ہو جاتا ہے اور متعلقہ ججز اپنی نئی تعیناتی کے مطابق کام شروع کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کون سا جج کس ضلع میں ذمہ داری سنبھالے گا، تاکہ وکلا، سائلین اور عدالتی عملے کو کسی ابہام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

عام سائلین کے لیے اس خبر کی اہمیت یہ ہے کہ اگر ان کا مقدمہ ان تین ججز میں سے کسی کے پاس زیر سماعت تھا یا ان اضلاع سے متعلق ہے تو انہیں نئی صورتحال سے آگاہ رہنا چاہیے۔ عدالتی تبادلوں کے بعد مقدمات کی سماعت نئے جج کے سامنے جاری رہتی ہے، لیکن تاریخوں اور کارروائی کے حوالے سے متعلقہ عدالت سے تازہ معلومات لینا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ تبادلے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضلعی عدلیہ کے انتظام کا حصہ ہیں۔ تین ججز کی فوری منتقلی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدالتی انتظامیہ اضلاع میں عدالتی کام کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور جہاں ضرورت ہو وہاں فوری فیصلے بھی کر رہی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ: 3 ججز گوجرانوالہ، عیسیٰ خیل، پپلاں منتقل