Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولBusinessاے آئی سرمایہ کاری میں بلبلے کا خطرہ، فرانس نے خبردار کر دیا

اے آئی سرمایہ کاری میں بلبلے کا خطرہ، فرانس نے خبردار کر دیاBusiness

hammadkhaksar
hammadkhaksar
پیر، 2 نومبر، 2026
4 منٹ
ہمیں فالو کریں:WhatsAppFacebook

فرانس کے مرکزی بینک کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ قرض پر مبنی مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری بلبلہ بن سکتی ہے اور بینکوں کو اپنے خطرات جانچنے چاہئیں۔

اے آئی سرمایہ کاری میں بلبلے کا خطرہ، فرانس نے خبردار کر دیا
شیئر کریں:

فرانس کے مرکزی بینک کے گورنر فرانسوا ولروا ڈی گالہاؤ نے مصنوعی ذہانت پر بھاری سرمایہ کاری کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ قرض پر مبنی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ایک بلبلہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسٹاک کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں، کئی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں بھاری قرض لے رہی ہیں، اور بینکوں اور نجی قرض دینے والے اداروں کو اپنے خطرات کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی رفتار بے مثال ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز، چپس اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اور سرمایہ کار اس امید پر پیسہ لگا رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت آنے والے برسوں میں بڑی آمدنی پیدا کرے گی۔ اسی امید نے کئی کمپنیوں کی مارکیٹ قیمت کو بہت اوپر پہنچا دیا ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

گورنر کا خدشہ یہ ہے کہ اگر یہ امید پوری نہ ہوئی تو اصلاح یعنی قیمتوں میں اچانک اور بڑی کمی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ جب قیمتیں قرض پر کھڑی ہوں تو گراوٹ کا اثر صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہتا۔ بینکوں، سرمایہ کاروں اور قرض دینے والے اداروں کو بھی نقصان ہو سکتا ہے، اور یہ دباؤ پورے مالیاتی نظام تک پھیل سکتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالیاتی ادارے اپنی نمائش یعنی اپنے قرضوں اور سرمایہ کاری کا احتیاط سے جائزہ لیں۔

یہ بحث صرف فرانس تک محدود نہیں۔ یورپی مرکزی بینک نے بھی پیر کے روز مصنوعی ذہانت کے اسٹاک کی بلند قیمتوں کو مالیاتی استحکام کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ کے مالیاتی حکام اس شعبے کی تیزی کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر یہ تیزی رک جائے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے۔

دوسری طرف گورنر نے یہ بھی کہا کہ یورپ کو مصنوعی ذہانت میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔ یہ ایک مشکل توازن ہے: سرمایہ کاری نہ کرنا یورپ کو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتا ہے، جبکہ بے احتیاط سرمایہ کاری مالیاتی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری ضروری ہے، لیکن اس کی رفتار، اس کا ذریعہ اور اس سے وابستہ قرض بھی اتنا ہی اہم ہے۔

بلبلے کا تصور مالیاتی تاریخ میں نیا نہیں۔ جب کسی نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں امیدیں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں تو سرمایہ کار اکثر مستقبل کی آمدنی کا اندازہ لگا کر آج ہی بڑی قیمتیں ادا کر دیتے ہیں۔ اگر آمدنی اس رفتار سے نہ بڑھے تو قیمتوں میں اصلاح ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی خود اہم اور کارآمد ہو سکتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر سرمایہ کاری منافع بخش ہوگی یا ہر کمپنی کامیاب ہوگی۔

عام لوگوں کے لیے اس بحث کی اہمیت یہ ہے کہ مالیاتی نظام کا استحکام ان کی بچتوں، قرضوں اور روزگار سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر بڑے مالیاتی ادارے کسی ایک شعبے میں بہت زیادہ خطرہ مول لیں اور وہ شعبہ گر جائے تو اس کا اثر وسیع ہو سکتا ہے۔ اسی لیے مرکزی بینکوں کے گورنر اس طرح کے انتباہ جاری کرتے ہیں، تاکہ ادارے وقت رہتے احتیاط برتیں۔

فرانسیسی گورنر کا انتباہ کوئی پیش گوئی نہیں کہ بلبلہ ضرور پھٹے گا، بلکہ ایک احتیاطی پیغام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری کو دیکھتے ہوئے مالیاتی اداروں کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے، قرض کی سطح پر نظر رکھنی چاہیے، اور اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ قیمتیں ہمیشہ اوپر نہیں جائیں گی۔

اے آئی سرمایہ کاری میں بلبلے کا خطرہ، فرانس نے خبردار کر دیا