حکومت پنجاب میڈیکل اداروں میں اساتذہ کی شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے ریٹائرڈ ڈاکٹروں اور نجی شعبے کے طبی ماہرین کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے درخواستیں 5 نومبر تک طلب کی گئی ہیں، اور اہل امیدواروں کا انتخاب کھلے مسابقتی عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے سامنے آیا ہے، جس کے تحت صوبے کے مختلف میڈیکل اداروں میں خالی تدریسی آسامیوں کو پُر کیا جائے گا۔ ریٹائرڈ پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور دیگر اداروں کے وہ امیدوار بھی درخواست دے سکتے ہیں جو متعلقہ آسامی کے لیے مطلوبہ تعلیمی قابلیت، تجربہ اور تحقیقی شرائط پوری کرتے ہوں۔
ملازمت کی زیادہ سے زیادہ عمر 65 سال مقرر کی گئی ہے۔ کنٹریکٹ کی مدت تین سال، یا 65 سال کی عمر تک، یا اس وقت تک ہوگی جب تک ترقی یا پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کوئی مستقل امیدوار تعینات نہیں ہو جاتا، جو بھی پہلے ہو۔ یہ شرط واضح کرتی ہے کہ یہ تقرریاں عارضی نوعیت کی ہیں اور مستقل بھرتیوں کا متبادل نہیں۔
یہ اقدام 12 ایسے شعبوں پر مرکوز ہے جہاں اساتذہ کی کمی سب سے زیادہ ہے۔ ان میں کارڈیالوجی، کارڈیک سرجری، اینستھیزیا، پلمونولوجی، آنکولوجی، ریڈیالوجی، بائیو کیمسٹری، فرانزک میڈیسن، سائیکاٹری، پیڈیاٹرک سرجری، پیڈیاٹرک کارڈیک سرجری اور پیڈیاٹرک کارڈیالوجی شامل ہیں۔ ان شعبوں میں کئی آسامیاں مہینوں سے خالی ہیں، جس کی وجہ سے جونیئر ڈاکٹروں کو سینئر اساتذہ کی مناسب نگرانی کے بغیر کام کرنا پڑ رہا ہے۔
سینئر ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ تجربہ کار اساتذہ کی آمد سے جونیئر ڈاکٹروں کو فائدہ ہوگا، کیونکہ انہیں تربیت اور رہنمائی میسر آئے گی۔ طبی تعلیم میں سینئر فیکلٹی کی موجودگی طلبہ کی تربیت اور مریضوں کی دیکھ بھال دونوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے، اور خالی آسامیاں اس پورے نظام کو متاثر کرتی ہیں۔
دوسری جانب بعض ذرائع نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ پر تقرریاں طبی تعلیم کے مستقل ڈھانچے کو کمزور کر سکتی ہیں اور سرکاری اداروں میں پہلے سے کام کرنے والے ڈاکٹروں کی ترقی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سے انتظامی کنٹرول بڑھے گا اور سینئر تعلیمی تقرریاں حکام کی ترجیحات پر منحصر ہو جائیں گی۔
حکومت کی جانب سے ان تحفظات پر ابھی تک عوامی طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم اشتہار کے مطابق انتخاب میرٹ پر مبنی کھلے عمل سے ہوگا، جس سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ اہل اور تجربہ کار امیدواروں کو موقع ملے گا۔
پنجاب کے 36 سرکاری میڈیکل کالجوں اور ان سے منسلک تدریسی اسپتالوں میں اساتذہ کی کمی ایک پرانا مسئلہ ہے۔ اگر یہ منصوبہ شفاف طریقے سے مکمل ہوتا ہے تو یہ عارضی طور پر خالی آسامیوں کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن مستقل حل کے لیے باقاعدہ بھرتیوں کا عمل ہی اصل بنیاد رہے گا۔ امیدواروں کے لیے 5 نومبر کی آخری تاریخ قریب ہے، اس لیے دلچسپی رکھنے والے ڈاکٹروں کو جلد درخواست دینا ہوگی۔








