Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولپاکستانریسیور صرف فوری خطرے پر، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

ریسیور صرف فوری خطرے پر، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہپاکستان

hammadkhaksar
hammadkhaksar
پیر، 2 نومبر، 2026
3 منٹ
ہمیں فالو کریں:WhatsAppFacebook

عدالت نے قرار دیا کہ متنازع جائیداد پر ریسیور مقرر کرنا غیر معمولی عدالتی اقدام ہے، جو صرف اس وقت ہوگا جب جائیداد کے ضیاع یا غیر قانونی منتقلی کا فوری خطرہ ثابت ہو۔

ریسیور صرف فوری خطرے پر، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
شیئر کریں:

اسلام آباد — سپریم کورٹ نے متنازع جائیدادوں کے مقدمات میں ایک اہم اصول طے کر دیا ہے: ریسیور مقرر کرنا عدالت کا غیر معمولی اقدام ہے، اور یہ صرف اس وقت ہوگا جب جائیداد کو نقصان، ضیاع یا غیر قانونی منتقلی کا فوری خطرہ ثابت ہو جائے۔

عدالت نے واضح کیا کہ محض کسی فریق کی درخواست پر ریسیور مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ٹھوس بنیادیں اور فوری عدالتی مداخلت کی مجبوری دکھانا لازم ہے، ورنہ یہ اقدام جائیداد کے مالکانہ حقوق میں بلا جواز مداخلت بن جائے گا۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ اصول حیدرآباد کے کوہ نور پیٹرول پمپ کی ڈیلرشپ اور وراثتی حصوں کے مقدمے میں طے کیے۔ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔

عدالت نے عارضی حکم امتناعی اور ریسیور مقرر کرنے میں فرق بھی واضح کیا۔ حکم امتناعی کے لیے بادی النظر کیس، سہولت کا توازن اور ناقابل تلافی نقصان دکھانا کافی ہوتا ہے، لیکن ریسیور کے لیے اس سے زیادہ مضبوط جواز اور فوری مداخلت کی ٹھوس ضرورت درکار ہے۔

مقدمے کی تاریخ کچھ یوں ہے: درخواست گزاروں نے پیٹرول پمپ کے بارے میں دعویٰ اور مستقل حکم امتناعی مانگا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 30 مئی 2025 کو عارضی حکم امتناعی کی درخواست مسترد کر دی۔ اپیلٹ کورٹ نے 5 اگست 2025 کو پمپ کی سیل کھولنے کا حکم دیا اور چھ ماہ یا حتمی فیصلے تک ڈیلرشپ میں مداخلت سے روک دیا، بشرطیکہ مسز نساء فرحان میمن کا مبینہ 29.17 فیصد حصہ ناظر کے پاس جمع کرایا جائے۔ پھر 20 اکتوبر 2025 کو سندھ ہائی کورٹ نے اپیلٹ حکم کالعدم کر کے ٹرائل کورٹ کے ناظر کو کوہ نور پیٹرولیم سروس حیدرآباد کا ریسیور مقرر کر دیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ اپیلٹ کورٹ کے سامنے اصل سوال صرف یہ تھا کہ ٹرائل کورٹ نے حکم امتناعی کی درخواست درست طور پر مسترد کی یا نہیں، لیکن ہائی کورٹ اس دائرے سے آگے بڑھ گئی اور ریسیور مقرر کر دیا، جب کہ بنیادی تنازع کا ابھی ٹھیک سے جائزہ ہی نہیں لیا گیا تھا اور دونوں ماتحت عدالتوں کے احکامات میں تضاد بھی تھا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 115 کے تحت ہائی کورٹ کا نظریاتی اختیار صرف قانونی یا دائرہ اختیار کی غلطی درست کرنے تک محدود ہے، مقدمے کی دوبارہ سماعت یا مانگی گئی داد سے زیادہ ریلیف دینے تک نہیں۔ وراثتی حصوں کا تنازع ٹرائل کورٹ میں پہلے سے زیر التوا ہے، اس لیے عبوری مرحلے پر اس کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

آخر میں عدالت نے زور دیا کہ ریسیور صرف اس وقت مقرر کیا جائے جب متنازع جائیداد کے تحفظ کے لیے یہ ناگزیر ہو، ورنہ نہیں۔

ریسیور صرف فوری خطرے پر، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ