اسلام آباد میں سینیٹ نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط قومی اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں اضافے کے مسئلے پر ایک جامع قومی ردعمل کی ضرورت ہے تاکہ عوامی خدمات اور سماجی و معاشی ترقی پر پڑنے والے دباؤ کا سامنا کیا جا سکے۔
یہ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے پیش کی۔ ایوان میں قرارداد کی منظوری کے موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ شرح نمو برقرار رہی تو پاکستان کی آبادی 2050 تک تقریباً 390 ملین تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جس سے قومی وسائل پر بے مثال دباؤ پڑے گا۔
قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ آبادی میں اضافہ صرف ایک اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور بنیادی سہولتوں سمیت زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور ایک واضح قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔
عوامی خدمات پر دباؤ
قرارداد کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی خدمات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ وسائل محدود ہیں۔ اگر بروقت منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں یہ دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور ترقیاتی اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ایوان میں اس موقع پر اراکین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبادی سے متعلق پالیسیاں بناتے وقت عوام کی فلاح، خاندانوں کی معاشی صورتحال اور نوجوانوں کے مستقبل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس چیلنج کا سامنا مربوط انداز میں کیا جائے تاکہ ترقی کے ثمرات ہر شہری تک پہنچ سکیں۔
جمعرات کے اجلاس میں سینیٹ میں انتخابی اصلاحات اور پارلیمانی اداروں کو مضبوط بنانے کے موضوع پر بھی بحث ہوئی۔ اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی مسائل پر بامعنی بحث پارلیمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
قرارداد کی منظوری کے بعد اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ حکومت اور متعلقہ ادارے آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھاتے ہیں۔ قرارداد میں قومی سطح پر ایک مربوط اور طویل مدتی حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے وسائل اور مواقع محفوظ رکھے جا سکیں۔








