Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولBusinessپاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہBusiness

hammadkhaksar
hammadkhaksar
منگل، 27 اکتوبر، 2026
3 منٹ
ہمیں فالو کریں:WhatsAppFacebook

حکومت نے 27 اکتوبر سے پیٹرول 1 روپے 54 پیسے اور ڈیزل 2 روپے 16 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں بالترتیب 379 روپے 25 پیسے اور 395 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہیں۔

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
شیئر کریں:

حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 27 اکتوبر سے ہو گیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 1 روپے 54 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 16 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔

نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول 379 روپے 25 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 395 روپے 82 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول کی قیمت 377 روپے 71 پیسے فی لیٹر تھی اور ڈیزل 393 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے حکومت کے جاری کردہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت ایکس ڈپو قیمتوں پر نظرثانی کی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں یہ تبدیلی عالمی منڈی میں ہونے والی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے، جن میں بین الاقوامی نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلی شامل ہے۔

پیٹرول عام طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر موٹر سائیکل سواروں اور کار مالکان کے روزمرہ اخراجات پر پڑتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں، بسوں اور زرعی مشینری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ٹرانسپورٹ اور ترسیل کے اخراجات کو متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ سامان کی نقل و حمل میں ڈیزل ایک بنیادی ایندھن ہے۔ ماہرین کے مطابق جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر بالواسطہ طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے، اگرچہ اس کا حتمی اثر مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکومت نے توانائی کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت تجارتی مراکز کو رات 9 بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں ابتدائی طور پر تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔

عالمی سطح پر تیل کی منڈی میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کا اثر پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر پڑتا ہے کیونکہ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔

شہریوں کے لیے یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مہنگائی پہلے ہی گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ روزانہ سفر کرنے والے افراد، خاص طور پر موٹر سائیکل سوار اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد، ایندھن کی قیمتوں میں ہر تبدیلی کو فوری طور پر محسوس کرتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی قیمتوں میں تبدیلی کی صورت میں مقامی قیمتوں پر بھی نظرثانی ہو سکتی ہے۔ عوام کی نظریں اب اگلی قیمتوں کی نظرثانی پر ہوں گی کہ آیا عالمی منڈی میں استحکام سے مقامی صارفین کو کچھ ریلیف ملتا ہے یا نہیں۔