Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولBusinessایل پی جی نومبر میں مہنگی، سلنڈر 3470 روپے کا

ایل پی جی نومبر میں مہنگی، سلنڈر 3470 روپے کاBusiness

hammadkhaksar
hammadkhaksar
پیر، 2 نومبر، 2026
3 منٹ
ہمیں فالو کریں:WhatsAppFacebook

اوگرا نے نومبر کے لیے ایل پی جی 14 روپے 73 پیسے فی کلو مہنگی کر دی ہے، جس سے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت 3,470 روپے ہو گئی ہے، جبکہ بازار میں قیمتیں اس سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہیں۔

ایل پی جی نومبر میں مہنگی، سلنڈر 3470 روپے کا
شیئر کریں:

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر 2026 کے لیے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے تحت ایل پی جی کی سرکاری قیمت 14 روپے 73 پیسے فی کلو گرام بڑھ کر 294 روپے 7 پیسے فی کلو گرام ہو گئی ہے، جو یکم نومبر 2026 سے ملک بھر میں نافذ ہے۔

گھریلو صارفین کے لیے 11.8 کلو گرام والے سلنڈر کی قیمت میں 173 روپے 86 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر میں یہ سلنڈر 3,296 روپے 23 پیسے کا تھا، جبکہ نومبر میں اس کی سرکاری قیمت 3,470 روپے 9 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ فی ٹن کے حساب سے ایل پی جی کی قیمت 279,341 روپے سے بڑھ کر 294,075 روپے ہو گئی ہے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

اضافے کی وجہ کیا بتائی گئی؟

اوگرا کے مطابق قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ سعودی آرامکو کی کنٹریکٹ قیمت میں 6.47 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ امریکی ڈالر کی اوسط شرح تبادلہ میں 0.12 فیصد کمی ہوئی، جس نے اضافے کے اثر کو معمولی حد تک کم کیا۔ مجموعی طور پر صارفین کے لیے قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلو گرام کا اضافہ ہوا۔

ایل پی جی کی قیمت کا تعین بین الاقوامی معیاروں اور شرح تبادلہ سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تبدیلی براہ راست مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سردیوں کا موسم قریب آ رہا ہے اور ان علاقوں میں جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں، گھرانے کھانا پکانے اور گھر گرم رکھنے کے لیے سلنڈر پر انحصار کرتے ہیں۔

سرکاری قیمت اور بازار کی قیمت میں فرق

سرکاری نوٹیفکیشن کے باوجود اطلاعات کے مطابق کھلی منڈی میں ایل پی جی 630 روپے فی کلو گرام تک فروخت ہو رہی ہے، جو سرکاری نرخ سے دو گنا سے زیادہ ہے۔ کمپنیوں کی فرنچائزز پر بھی قیمت 400 روپے فی کلو گرام تک بتائی جا رہی ہے۔ اس فرق نے صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ بہت سے خریداروں کو سرکاری نرخ پر گیس دستیاب نہیں ہو رہی۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی سرحد کی بندش سے سپلائی پر دباؤ پڑا ہے۔ ان کے مطابق رسد کی کمی بازار میں قیمتوں کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

دوسری جانب پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ ایل پی جی پالیسی میں نجی شعبے کو نظرانداز کیا گیا تو وہ 16 نومبر سے کاروبار بند کر سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر کے مطابق یہ احتجاج پالیسی سازی میں نجی شعبے کے کردار سے متعلق ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں ایل پی جی کی طلب عام طور پر بڑھ جاتی ہے، اس لیے قیمت اور دستیابی دونوں پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف مجاز ڈیلرز سے گیس خریدیں اور سرکاری نرخ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کی شکایت متعلقہ حکام تک پہنچائیں، تاکہ بازار میں شفافیت برقرار رہ سکے۔

ایل پی جی نومبر میں مہنگی، سلنڈر 3470 روپے کا