پاکستان میں سونے کی قیمت میں بدھ کے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ سونے کی قیمت میں 13,900 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ملک میں سونے کی نئی قیمت 426,036 روپے فی تولہ ہو گئی ہے۔
دس گرام سونے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دس گرام سونا 11,917 روپے مہنگا ہو کر 365,257 روپے کا ہو گیا ہے۔ یوں سونا خریدنے والوں کو اب پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔
عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمت بڑھی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 139 ڈالر فی اونس مہنگا ہو کر 4,035 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کا تعین بڑی حد تک عالمی قیمت اور روپے کی قدر سے ہوتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر اضافہ مقامی قیمتوں میں بھی جھلکتا ہے۔
سونے کی قیمت میں اس اضافے کا براہ راست اثر عام خریداروں پر پڑے گا۔ شادیوں اور دیگر تقریبات کے لیے زیورات خریدنے والے خاندانوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھے گا، جبکہ سناروں اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بھی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے مطابق اپنے کاروبار کو ڈھالنا ہوگا۔
دوسری جانب سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھنے والے افراد کے لیے قیمتوں میں اضافہ ایک مثبت اشارہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ غیر یقینی معاشی حالات میں سرمایہ کار عموماً سونے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تاہم قیمتوں میں تیزی سے تبدیلی خریداروں اور فروخت کنندگان دونوں کے لیے فیصلہ سازی کو مشکل بنا دیتی ہے۔
سونے کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی ایک معمول کی بات ہے، لیکن ایک ہی دن میں تقریباً 14 ہزار روپے فی تولہ کا اضافہ خاصا بڑا سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اس خبر نے بازاروں اور خریداروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
آئندہ دنوں میں سونے کی قیمت کا انحصار عالمی مارکیٹ کی صورتحال، ڈالر کی قیمت اور مقامی طلب پر ہوگا۔ اگر عالمی سطح پر سونا مزید مہنگا ہوا تو مقامی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ممکن ہے، اور اگر عالمی قیمتوں میں کمی آئی تو مقامی بازار میں بھی ریلیف مل سکتا ہے۔
خریداروں کے لیے اس صورتحال میں احتیاط اور قیمتوں کی مسلسل نگرانی اہم ہے۔ سونا خریدنے سے پہلے مختلف دکانوں سے قیمت معلوم کرنا اور یومیہ نرخ سے باخبر رہنا فائدہ مند رہتا ہے، تاکہ خریداری کا فیصلہ درست وقت پر کیا جا سکے۔








