مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے دوسرے اجلاس میں سمندر پار کشمیریوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں 19 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جس میں سے بیشتر نکات کی منظوری دے دی گئی۔
کابینہ کے فیصلوں کا اعلان وزرا کرنل (ریٹائرڈ) وقار احمد نور، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، ثاقب مجید راجہ اور چوہدری عبدالرحمان نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالتوں کا مقصد بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو انصاف کی فراہمی میں آسانی پیدا کرنا اور ان کے قانونی مسائل کا حل ممکن بنانا ہے۔
وزرا کے مطابق بیرون ملک رہنے والے کشمیریوں کو اکثر اپنے مقدمات کی پیروی کے لیے طویل انتظار اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور نئی عدالتیں ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
کھیلوں اور معدنی شعبے کے لیے اقدامات
کابینہ نے کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بجٹ کا دو فیصد مختص کرنے کی بھی منظوری دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ریاست بھر میں کھیلوں کے مواقع بڑھیں گے اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو آگے لانے میں مدد ملے گی۔
معدنی شعبے میں جیم اسٹون ایکسی لینس مراکز قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ان مراکز میں قیمتی پتھروں کی شناخت، تراش خراش اور مارکیٹنگ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ تحقیق، تکنیکی تربیت اور مہارتوں کی ترقی پر بھی توجہ دی جائے گی۔ وزرا کا کہنا تھا کہ اس سے مقامی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا، وسائل میں قدر کا اضافہ ہوگا اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
پنشن اور انتظامی اصلاحات
کابینہ نے مقامی حکومتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کو درپیش پنشن مسائل کے حل کے لیے حکومتی مالی معاونت کی منظوری بھی دی۔ وزرا کے مطابق مقامی اداروں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور یہ فیصلہ زیر التوا پنشن مسائل کے حل میں مدد دے گا۔
انتظامی سطح پر اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور اسٹیٹ ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی کے انتظامی ڈھانچوں کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دونوں ادارے ایک متحد انتظامی نظام کے تحت کام کر سکیں۔
سو روزہ ترقیاتی ایجنڈا
وزرا نے بتایا کہ حکومت کا سو روزہ ایجنڈا جلد شروع کیا جائے گا، جس کی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کا آغاز مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور مریم نواز شریف کی مظفرآباد آمد اور مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کے بعد ہوگا۔
اس ایجنڈے میں صحت، عوامی خدمات، صفائی، سماجی بہبود اور ڈیجیٹلائزیشن میں بہتری کے ساتھ سیاحت کے فروغ اور سرکاری اداروں کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ صحت کے شعبے میں ہر ضلع میں دو بنیادی صحت مراکز اور ایک دیہی صحت مرکز کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا۔
وزرا کے مطابق بھمبر، کوٹلی اور راولاکوٹ میں کیتھ لیبز قائم کی جائیں گی اور آزاد کشمیر میں دل کے دورے کے مریضوں کے علاج کے لیے دو اسٹروک مراکز بھی بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ دھی رانی پروگرام، ستھرا کشمیر پروگرام، ہمت کارڈ، کلینک آن وہیلز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیجیٹلائزیشن جیسے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے،








