میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے ایک کثیر المقاصد اسکلز ڈویلپمنٹ سینٹر اور کیریئر کونسلنگ سیل قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ تجویز نیڈ اینڈ ہوپ فاؤنڈیشن اور بیرون ملک مقیم سابق طلبہ کے ایک وفد نے بدھ کے روز الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے دورے کے دوران پیش کی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وفد میں یونیورسٹی کے سابق رجسٹرار انجینئر محمد وارث، انجینئر نعیم پرویز رضا، انجینئر عزیز اختر چوہدری، انجینئر ندیم رضا، انجینئر ساجد علی چوہدری، انجینئر ناصر محمود قاضی، انجینئر محمد الیاس مغل اور شہزادہ اقبال شامل تھے۔ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد الیاس منہاس بھی اس ملاقات میں موجود تھے جو میرپور، آزاد جموں و کشمیر میں واقع یونیورسٹی میں ہوئی۔
ملاقات میں کیریئر کونسلنگ، ہنر کی تربیت اور طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے تجویز دی کہ یونیورسٹی میں ایک ایسا مرکز قائم کیا جائے جہاں طلبہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق عملی مہارتیں سکھائی جائیں اور انہیں پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ ملازمت کے مقابلے میں بہتر طور پر کامیاب ہو سکیں۔
انجینئر نعیم پرویز رضا نے اس موقع پر پیشہ ورانہ تربیت اور عملی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف تعلیمی ڈگری اکثر عملی میدان کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، اس لیے طلبہ کو ہاتھ سے کام کرنے کی تربیت، رہنمائی اور کیریئر کے انتخاب میں مشورے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیگر سابق طلبہ نے بھی طلبہ کے کیریئر کے امکانات بہتر بنانے والے اقدامات کی حمایت کا عزم ظاہر کیا۔
ڈاکٹر منہاس نے سابق طلبہ کی دلچسپی کو سراہا اور کہا کہ گریجویٹس اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط روابط طلبہ کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کو وسعت دے سکتے ہیں۔ یہ تجویز نیڈ اینڈ ہوپ فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی کے درمیان پہلے سے موجود تعلق کی بنیاد پر سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق فاؤنڈیشن انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے وظائف کی مالی معاونت کر چکی ہے، جن میں ایک تقریب میں اکتالیس طلبہ میں بیس لاکھ روپے تقسیم کیے گئے تھے۔
میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 2008 میں قائم ہوئی تھی جب علی احمد شاہ یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ یہ کالج 1980 میں آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے تحت قائم ہوا تھا۔ یونیورسٹی کا مقصد آزاد کشمیر کے نوجوانوں اور کشمیری تارکین وطن کو سائنس و ٹیکنالوجی کی اعلیٰ تعلیم فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مجوزہ اسکلز سینٹر اور کونسلنگ سیل کب قائم ہوں گے، ان کی مالی معاونت کیسے ہوگی، کن مہارتوں پر توجہ دی جائے گی اور کیا یونیورسٹی نے ان تجاویز کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس وقت یہ ملاقات سابق طلبہ اور یونیورسٹی کے درمیان مشترکہ منصوبے کی طرف ایک قدم ہے، اور اگلا مرحلہ یونیورسٹی کا اس مرکز کے قیام اور انتظام کے بارے میں فیصلہ ہوگا۔








